سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 745
۷۴۵ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ عرض حال سيرة خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے حصہ سوم کا پہلا جز و ہدیہ ناظرین کرتے ہوئے میری طبیعت میں اس وجہ سے کافی تامل ہے کہ یہ حصہ اس احتیاط کے ساتھ نہیں لکھا گیا جس احتیاط سے کہ سابقہ حصے لکھے گئے تھے اور اس کا آخری حصہ تو گویا بالکل قلم برداشتہ ہی لکھا گیا اور یہ انداز ایک تاریخی تحقیق کے لئے یقیناً مناسب نہیں۔اسی طرح اس حصہ کی نظر ثانی بھی ایسے حالات میں ہوئی ہے کہ میں اس کے متعلق کسی طرح تسلی کا اظہار نہیں کر سکتا۔قادیان سے باہر آنے کے بعد کتابوں کا بہت سا ذخیرہ تو قادیان میں ہی رہ گیا اور جو حصہ پاکستان میں پہنچا وہ لاہور اور چنیوٹ اور ربوہ احمد نگر وغیرہ میں منتشر پڑا ہے اس لئے حوالوں کی آخری چھان بین بلکہ بعض صورتوں میں تو ابتدائی چھان بین بھی تسلی بخش صورت میں نہیں ہوسکتی اور مجھے اکثر جگہ حوالہ در حوالہ پر اکتفا کرنی پڑی ہے۔مثلاً اگر زرقانی نے یہ لکھا ہے کہ ابن سعد نے فلاں بات یوں بیان کی ہے تو میں اسے موجودہ تصنیف میں قبول کر لیتا ہوں حالانکہ اس سے پہلے اصل ماخذ کی طرف رجوع کر کے ذاتی پڑتال کے بعد اندراج کیا کرتا تھا۔اس کے علاوہ آخری حصہ لاہور میں آکر بہت جلدی میں لکھنا پڑا ہے اس لئے دلجمعی کی نظر ثانی کے نتیجہ میں جو اصلاح اور تصحیح ممکن ہوسکتی ہے وہ اسے میسر نہیں آئی مگر بہر حال جو کچھ بھی موجودہ حالات کی مجبوریوں کے ماتحت لکھا جاسکا ہے وہ دوستوں کے اس مشورہ کے نتیجہ میں کہ موجودہ مواد بہر حال شائع ہو جانا چاہئے ہدیہ ناظرین کیا جاتا ہے۔اگر خدا نے توفیق دی تو انشاء اللہ طبع ثانی کے وقت ضروری اصلاح کی جاسکے گی۔جیسا کہ میں الفضل میں اعلان کر چکا ہوں یہ حصہ مکمل نہیں ہے بلک صرف غزوہ بنو قریظہ کے بعد کے حالات سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تبلیغی خطوط کے زمانہ تک محدود ہے اسی لئے میں نے اس کا نام ” سيرة خاتم النبیین حصہ سوم جز واول رکھا ہے۔جب بقیہ جز وشائع ہوگی تو انشاء اللہ حصہ سوم مکمل