سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 733
۷۳۳ ایک نہ ہو جائیں۔ہاں اگر ایسے مسلمان تم سے کسی دینی معاملہ میں مدد مانگیں تو تمہارا فرض ہے کہ ان کی مدد کرو لیکن اگر وہ کسی ایسی غیر مسلم قوم کے خلاف تم سے مدد مانگیں جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے تو پھر تم ہر گز ان کی مدد نہ کرو اور بہر حال اپنے عہد پر قائم رہو اور جانو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔کیا اس سے بڑھ کر ایفائے عہد اور عدل وانصاف کی کوئی تعلیم ہوگی ؟ اسلامی حکومت کی غیر مسلم رعایا کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا لَمْ يَرِحُ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ یعنی ” جو مسلمان کسی ایسے غیر مسلم کے قتل کا مرتکب ہو گا جو کسی ( لفظی یا عملی ) معاہدہ کے نتیجہ میں اسلامی حکومت میں داخل ہو چکا ہے وہ (علاوہ اس دنیا کی سزا کے ) قیامت میں جنت کی ہوا سے محروم رہے گا۔پھر فرماتے ہیں: مَنْ ظَلَمَ مَعَاهِدًا اَوِ نَتَقَصَهُ اَوْ كَلَّفَهُ فَوْقَ طَاقَتِهِ اَوْ اَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا بِغَيْرِ طِيْبِ نَفْسِهِ فَأَنَا حَجِيجُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ یعنی جو مسلمان کسی ایسے غیر مسلم پر جس کے ساتھ اسلامی حکومت کا معاہدہ ہے کوئی ظلم کرے گا یا اسے کسی قسم کا نقصان پہنچائے گا یا اس پر کوئی ایسی ذمہ داری یا ایسا کام ڈالے گا جو اس کی طاقت سے باہر ہے یا اس سے کوئی چیز بغیر اس کی دلی خوشی اور رضامندی کے لے گا تو اے مسلما نوسن لو کہ میں قیامت کے دن اس غیر مسلم کی طرف سے ہو کر اس مسلمان کے خلاف خدا سے انصاف چاہوں گا۔“ مگر یا د رکھنا چاہئے کہ اسلام صرف منفی قسم کے سلوک تک اپنے آپ کو محمد و دنہیں رکھتا یعنی وہ صرف یہ نہیں کہتا کہ کسی غیر مسلم کی حق تلفی نہ کرو اور بس بلکہ وہ غیر مسلموں کے ساتھ نیکی اور احسان کا بھی حکم دیتا ہے۔چنا نچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لَا يَنْهُكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ : یعنی ”اے مسلمانو ! خدا نے جو تمہیں ان ظالم کافروں کے ساتھ دوستی لگانے سے منع فرمایا ہے جو تمہارے دین کو مٹانے کے لئے تمہارے ساتھ لڑ رہے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم ان غیر مسلموں کے ساتھ جو تمہارے دین کو جبر امٹانے کے درپے نہیں اور تم پر ظلم نہیں کرتے تعلق نہ رکھو بلکہ تمہیں چاہئے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ نیکی اور عدل و احسان کا معاملہ کرو کیونکہ عدل واحسان کرنے والوں کو خدا پسند کرتا ہے۔“ بخاری کتاب الجہاد : ابوداؤد بحوالہ مشکوۃ باب الصلح : سورة ممتحنه : ۹