سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 647 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 647

۶۴۷ میں خاص طور پر حصہ لیا۔چنانچہ ان فتنہ پردازوں نے اپنے نئے وطن خیبر سے نکل کر حجاز اور نجد کے قبائل کا دورہ کیا اور سب سے پہلے مکہ میں پہنچ کر قریش کو اپنے ساتھ گانٹھا۔اور رؤساء قریش کو خوش کرنے کے لئے اس بات تک کے کہنے سے دریغ نہیں کیا کہ مسلمانوں کے دین سے تمہارا دین (شرک و بت پرستی) اچھا ہے۔" اس کے بعد انہوں نے نجد میں جا کر قبیلہ غطفان کو اپنے ساتھ ملایا " اور اس قبیلہ کی شاخہائے فرارہ اور مرہ اور اشجع وغیرہ کو اپنے ساتھ نکلنے کے لئے تیار کر لیا۔پھر قریش اور غطفان کی انگیخت سے قبائل بنو سلیم اور بنو اسد بھی اس مخالف اسلام اتحاد کی کڑی میں منسلک ہو گئے۔۔اور دوسری طرف یہود نے اپنے حلیف قبیلہ بنو سعد کو پیغام بھیج کر اپنی اعانت کے لئے کھڑا کر لیا۔اس زبر دست اتحاد کے علاوہ قریش نے اپنے گردو نواح کے قبائل میں سے بھی بہت سے لوگوں کو جو ان کے توابع میں سے تھے اپنے ساتھ ملالیا اور پھر پوری تیاری کے بعد صحرائے عرب کے یہ خونخوار قبائل مسلمانوں کو ملیا میٹ کرنے کے ارادے سے ایک سیل عظیم کی طرح مدینہ پر امڈ آئے۔اور یہ عزم کیا کہ جب تک اسلام کو صفحہ دنیا سے مٹا نہیں لیں گے واپس نہیں لوٹیں گے۔کفار کے اس عظیم الشان لشکر کا اندازہ دس ہزار نفوس سے لے کر پندرہ ہزار بلکہ بعض روایات کی رو سے چوبیس ہزار تک لگایا گیا ہے۔اگر دس ہزار کے اندازے کو ہی صحیح تسلیم کیا جاوے تو پھر بھی اس زمانہ کے لحاظ سے یہ تعداد اتنی بڑی تھی کہ غالبا اس سے پہلے عرب کے قبائلی جنگوں میں اتنی بڑی تعداد کبھی کسی جنگ میں شامل نہیں ہوئی ہوگی۔جنگ کی کمان کا انتظام یہ تھا کہ سارے لشکر کا قائد اعظم یعنی سپہ سالا را بوسفیان بن حرب تھا۔جو سپہ سالار ہونے کے علاوہ اپنے قبیلہ قریش کا امیر العسکر بھی تھا۔قبائل غطفان کی مجموعی کمان عیینہ بن حصن فزاری کے ہاتھ میں تھی اور اس کے ماتحت ہر قبیلہ کا الگ الگ کمانڈر تھا۔بنوسلیم کا کمانڈر سفیان بن عبد شمس تھا اور بنو اسدا اپنے رئیس طلیحہ بن خویلد کی کمان میں تھے۔سامان خوردونوش اور سامان جنگ بھی ہر طرح کافی وشافی تھا۔اس طرح یہ لشکر شوال ۵ ہجری ابن ہشام : ابن سعد وابن ہشام : ابن ہشام وابن سعد ابن ہشام ے خمیس ابن سعد ا زرقانی فتح الباری بحوالہ سیرۃ النبی جلد اصفحه ۳۸۶ ۱۲ : ابن سعد ۱۳ ابن ہشام سے ابن ہشام : ابن سعد و تمیس ابن ہشام وابن سعد ۱۴: ابن سعد