سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 646 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 646

۶۴۶ مدینہ کا محاصرہ اور مسلمانوں کی نازک حالت کفار کی نامرادی۔حقیقت معجزه جنگ احزاب یعنی غزوہ خندق اب ہم تاریخ اسلامی کے اس حصہ میں داخل ہوتے ہیں جبکہ اسلام کے خلاف قبائل عرب کی دشمنی نہ شوال ۵ ہجری مطابق فروری و مارچ ۶۲۷ء صرف انتہا کو پہنچ گئی بلکہ انہوں نے ایک متحدہ تدبیر کے ماتحت اپنی طاقتوں کو جمع کر کے اسلام کی بیخ کنی کا تہیہ کرلیا مگر قدرت الہی کا ایسا تصرف ہوا کہ ان کے اس اتحاد میں ہی ناکامی کا تخم پیدا ہو گیا اور ابھی یہ عمارت پوری طرح کھڑی بھی نہ ہونے پائی تھی کہ اس کی بنیادیں کھوکھلی ہو کر گرنی شروع ہو گئیں۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ مکہ کے قریش اور نجد کے قبائل غطفان وسلیم گو پہلے سے ہی مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہور ہے تھے اور آئے دن مدینہ کے خلاف حملہ آوری کی فکر میں رہتے تھے مگر ابھی تک انہوں نے اپنی طاقتوں کو اسلام کے خلاف ایک میدان میں مجتمع نہیں کیا تھا لیکن جب یہود کے قبیلہ بنو نضیر کے لوگ اپنی غداری اور فتنہ انگیزی کی وجہ سے مدینہ سے جلا وطن کئے گئے تو ان کے رؤساء نے اس شریفانہ بلکہ محسنانہ سلوک کو فراموش کرتے ہوئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا آپس میں یہ تجویز کی کہ عرب کی تمام منتشر طاقتوں کو ایک جا جمع کر کے اسلام کو ملیا میٹ کرنے کی کوشش کی جاوے اور چونکہ یہودی لوگ بڑے ہوشیار و چالاک تھے اور اس قسم کے سازشی کاموں میں خوب مہارت رکھتے تھے اس لئے ان کی مفسدانہ کوششیں بار آور ہوئیں اور قبائل عرب ایک جان ہو کر مسلمانوں کے خلاف میدان میں نکل آئے۔یہودی رؤساء میں سے سلام بن ابی الحقیق۔حی بن اخطب اور کنانہ بن الربیع نے اس اشتعال انگیزی ابن سعد