سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 636 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 636

۶۳۶ میں نے بے اختیار ہو کر کہا۔سبحان اللہ سبحان اللہ ! کیا لوگ میرے متعلق واقعی یہ باتیں کر رہے ہیں؟ پھر میں رونے لگ گئی اور ساری رات میرے آنسو نہیں تھے اور نہ میں سوئی اور جب صبح ہوئی تو اس وقت بھی میرے آنسو جاری تھے۔اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب اور اسامہ بن زید کو مشورہ کے لئے بلایا کیونکہ وحی کے نزول میں بہت وقفہ پڑ گیا تھا ( اور آپ اس معاملہ میں بہت فکر مند تھے ) آپ نے ان دونوں سے میرے متعلق مشورہ پوچھا کہ ان حالات میں کہ اس قسم کی باتیں کی جارہی ہیں مجھے کیا کرنا چاہئے۔آیا میں عائشہ سے قطع تعلق کرلوں؟ اسامہ نے عرض کیا یا رسول اللہ!عائشہ آپ کی بیوی ہیں (یعنی خدا تعالیٰ نے جو عائشہ کو آپ کی بیوی بننے کے لئے چنا ہے تو انہیں اس کا اہل جان کر چنا ہے ) اور خدا کی قسم ہم تو عائشہ کے متعلق سوائے نیکی کے اور کچھ نہیں جانتے مگر علی نے ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف کا خیال کرتے ہوئے ) یہ جواب دیا کہ 'یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے آپ پر کوئی تنگی نہیں فرمائی اور عائشہ کے سوا عورتوں کی کمی بھی نہیں ہے (مگر میں اصل واقعہ کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا ) آپ گھر کی خادمہ سے دریافت فرمالیں شائد اسے کچھ علم ہو۔اور وہ صحیح صحیح بات بتا سکے۔اس پر آپ نے اپنی خادمہ بریرہ کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ کیا تم نے عائشہ میں کوئی ایسی بات دیکھی ہے جس سے کسی قسم کا شبہ پیدا ہوتا ہو؟ بریرہ نے جواب دیا کہ ”مجھے خدا کی قسم ہے جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے کہ میں نے اپنی بی بی میں کوئی بری بات نہیں دیکھی سوائے اس کے کہ خوردسالی کی وجہ سے وہ کسی قدر بے پروا ضرور ہیں۔چنانچہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آٹا گوندھا ہوا کھلا چھوڑ کر سو جاتی ہیں اور بکری آتی ہے اور آٹا کھا جاتی ہے۔پھر اسی دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں ایک تقریر کی اور فرمایا کہ ” مجھے میرے اہل کے بارے میں بہت دکھ دیا گیا ہے۔کیا تم میں سے کوئی ہے جو اس کا سد باب کر سکے؟ اور خدا کی قسم مجھے تو اپنی بیوی کے متعلق سوائے خیر و نیکی کے اور کوئی علم نہیں ہے۔اور جس شخص کا اس معاملہ میں نام لیا جاتا ہے اسے بھی میں اپنے علم میں نیک خیال کرتا ہوں۔اور وہ کبھی میرے گھر میں میری غیر حاضری میں نہیں آیا۔“ آپ کی اس تقریر کوسن کر سعد بن معاذ رئیس قبیلہ اوس کھڑے ہو گئے اور عرض کیا۔یا رسول اللہ ! میں اس کا سد باب کرتا ہوں۔اگر تو یہ شخص ہمارے قبیلے میں سے ہے تو ہمارے نزدیک وہ واجب القتل ہے۔ہم ابھی اس کی گردن اڑائے دیتے ہیں اور اگر وہ ہمارے بھائیوں یعنی قبیلہ خزرج میں سے ہے تو پھر بھی جس