سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 627 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 627

۶۲۷ 66 کے خلاف ہونے کے علاوہ ایک گونہ عتاب کا بھی رنگ رکھتی تھی۔چنانچہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں لَوْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم كَاتِمًا شَيْئًا لَكَتَمَ هذه ا یعنی اگر آنحضرت صلی الله علیہ وسلم اپنی کسی وحی کو چھپانے والے ہوتے تو ضرور اس وحی کو چھپاتے۔پس اپنے مفید مطلب وحی اتار لینے کا اعتراض بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔باقی رہا یہ امر کہ اکثر ایسا بھی ہوتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خیال کے مطابق وحی نازل ہو جاتی تھی۔سو یہ درست ہے مگر یہ ہرگز جائے اعتراض نہیں بلکہ یہی بات آپ کی صداقت اور کمال کی دلیل ہے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا یعنی اے نبی ! تو اس خدائی دین اسلام پر راستی اور سداد کے ساتھ قائم ہو جا جس کی بناوٹ انسانی فطرت کے مطابق بنائی گئی ہے۔اور عقلاً بھی غور کیا جاوے تو یہی ہونا چاہئے تھا کہ فطرت انسانی شریعت کے مطابق بنائی جاتی۔یا بالفاظ دیگر شریعت کو فطرت انسانی کے مطابق اتارا جاتا۔پس فطرت صحیحہ اور شریعت اسلامی کا توار د تو ضروری ہے اور جتنی جتنی کسی شخص کی فطرت زیادہ صاف اور بیرونی اثرات سے زیادہ پاک ہوتی ہے اتنا ہی وہ شریعت کی روح کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔لہذا یہ ضروری تھا کہ دوسرے انسانوں کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طبعی میلانات شریعت اسلامی کے زیادہ قریب ہوتے۔اور عام حالات میں آپ کی رائے اسی رستے پر چلتی جس رستے پر شریعت کا نزول ہونا تھا مگر یہ بالکل درست نہیں کہ ہمیشہ ہی ایسا ہوتا تھا کیونکہ بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انسان تھے اور بشری لوازمات کے ماتحت ضروری تھا کہ کہیں کہیں اختلاف بھی ہو جاتا۔علاوہ ازیں چونکہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات واضح کرنا منظور تھی کہ جو وحی آپ پر نازل ہوتی ہے وہ آپ کے دل و دماغ سے ایک بال منبع رکھتی ہے اور ایک وراء الوراء ہستی کی طرف سے آتی ہے۔اس لئے اس نے اپنے حکیمانہ تصرف کے ماتحت ایسی مثالوں کی بھی کمی نہیں رہنے دی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال کچھ تھا اور وحی کچھ اور نازل ہوئی یا یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کچھ تھی اور وحی کچھ اور نازل ہوئی۔پس میور صاحب اور مارگولیس صاحب کا اعتراض بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔غززہ بنو مصطلق اور واقعہ افک شعبان ۵ ہجری قریش کی مخالفت دن بدن زیادہ خطرناک صورت اختیار کرتی جاتی تھی۔وہ اپنی ریشہ دوانی بخاری کتاب التوحید : سورة روم : ۳۱