سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 598 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 598

۵۹۸ ہے کہ یہ وہی زید بن ثابت ہیں جنہوں نے حضرت ابو بکر کے زمانہ میں ان کے حکم کے ماتحت قرآن شریف کو ایک مصحف یعنی کتاب کی صورت میں جمع کر کے لکھاے جمع قرآن ہم نے جو او پر یہ لکھا ہے کہ زید بن ثابت انصاری نے حضرت ابو بکر کے زمانہ خلافت میں قرآن کریم کو مصحف کی صورت میں جمع کر کے لکھا تھا۔اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ اس سے پہلے قرآن مجید جمع نہیں تھا بلکہ حق یہ ہے کہ قرآن کریم جوں جوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتا جاتا تھا، آپ اسے الہی تفہیم کے ماتحت ترتیب دے کر نہ صرف خودا سے یاد کرتے جاتے تھے بلکہ بہت سے دوسرے صحابہ کو بھی یاد کرا دیتے تھے اور جو صحابہ اس معاملہ میں زیادہ ماہر تھے ان کا آپ نے یہ فرض مقرر کیا تھا کہ وہ دوسروں کو سکھائیں۔اور مزید احتیاط کے طور پر آپ اسے ساتھ ساتھ لکھواتے بھی جاتے تھے۔چنانچہ حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ یہی زید بن ثابت جنہوں نے بعد میں قرآن شریف کو ایک جلد کی صورت میں اکٹھا کر کے لکھا اور جو ایک غیر معمولی طور پر ذہین آدمی تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قرآنی وحی کے قلمبند کرنے پر مامور تھے یے اور ان کے علاوہ بعض اور اصحاب بھی اس خدمت کو سرانجام دیتے تھے۔مثلاً حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان ، حضرت علی ، زبیر بن العوام، شرجیل بن حسنہ، عبد الله بن سعد بن ابی سرح ، ابی بن کعب ، عبد اللہ بن رواحہ وغیرہ۔غرض قرآن مجید کے جمع و ترتیب کا حقیقی کام سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی آپ کی ہدایت کے ماتحت ہو گیا تھا اور یہ صرف ایک قیاس ہی نہیں ہے بلکہ حدیث میں صراحت کے ساتھ ذکر آتا ہے۔چنا نچہ عبداللہ بن عباس سے بخاری باب جمع القرآن یہ یا درکھنا چاہئے کہ قرآن شریف کا نزول قریبا تئیس سال یا زیادہ صحیح طور پر ساڑھے بائیس سال کے عرصہ میں آہستہ آہستہ ہوا تھا۔اورگو در میان میں بعض ناغے ہو جاتے تھے اور بعض ایام میں زیادہ حصہ اکٹھا نازل ہو جاتا تھا، لیکن اگر حسابی طور پر قرآن شریف کی مجموعی آیات کو جو قریباً چھ ہزار دو سو چونتیس ( ۶۲۳۴ ) ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ نبوت کے دنوں پر جو قمری حساب سے قریباًسات ہزار نوسوستر (۷۹۷۰) بنتے ہیں پھیلا کر دیکھا جاوے تو فی یوم صرف ۷۸ ۰ یعنی ایک آیت سے بھی کم کا حساب نکلتا ہے اور یہی اس قرآنی آیت کی عملی تفسیر ہے کہ رَثَلْته ترتیلا ( سورۃ فرقان :۳۳) یعنی ہم نے قرآن کو یکلخت نہیں اتا را بلکہ بہت آہستہ آہستہ ٹکڑے ٹکڑے کر کے اتارا ہے۔بخاری فضائل القرآن ه فتح الباری جلد ۹ صفحه ۱۹، زرقانی جلد ۳ صفحه ۳۱۱ تا ۳۲۶ بخاری کتاب فضائل القرآن باب کتاب البینی