سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 569
۵۶۹ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شکر قریش کے اس طرح بھاگ نکلنے کی اطلاع موصول ہوئی تو آپ نے خدا کا شکر کیا اور فرمایا کہ یہ خدا کا رعب ہے جو اس نے کفار کے دلوں پر مسلط کر دیا ہے۔اس کے بعد آپ نے حمراء الاسد میں دو تین دن اور قیام فرمایا اور پھر پانچ دن کی غیر حاضری کے بعد مدینہ میں واپس تشریف لے آئے۔اس مہم میں قریش کے دو سپاہی جن میں سے ایک غدار اور دوسرا جاسوس تھا مسلمانوں کے ہاتھ قید ہوئے اور چونکہ قوانین جنگ کے ماتحت ان کی سزا قتل تھی ، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان کو قتل کر دیا گیا۔ان میں سے ایک مکہ کا مشہور شاعر ابــوعُـزّہ تھا جو بدر کی جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ میں قید ہوا تھا اور پھر اس کے معافی مانگنے اور یہ وعدہ کرنے پر کہ وہ پھر کبھی مسلمانوں کے خلاف لڑائی کے لئے نہیں نکلے گا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا فدیہ چھوڑ دیا تھا، مگر وہ غداری کر کے پھر مسلمانوں کے خلاف شریک جنگ ہوا اور نہ صرف خود شریک ہوا بلکہ اس نے اپنے اشتعال انگیز اشعار سے دوسروں کو بھی ابھارا۔چونکہ ایسے آدمی کی غداری مسلمانوں کے لئے سخت نقصان دہ ہو سکتی تھی۔پس جب وہ دوبارہ مسلمانوں کے ہاتھ قید ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کئے جانے کا حکم دیا۔ابو غزہ نے پھر پہلے کی طرح زبانی معافی سے رہائی حاصل کرنی چاہی مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرماتے ہوئے انکار فرما دیا کہ لايُلدَعُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ ،، وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ " یعنی مومن ایک سوراخ میں سے دو دفعہ نہیں کاٹا جاتا “ “ دوسرا قیدی معاویہ بن مغیرہ تھا۔یہ شخص حضرت عثمان بن عفان کے رشتہ داروں میں سے تھا، مگر سخت معاند اسلام تھا۔جنگ اُحد کے بعد وہ خفیہ خفیہ مدینہ کے گردونواح میں گھومتا رہا مگر صحابہ نے اسے دیکھ لیا اور پکڑ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کیا۔آپ نے اسے حضرت عثمان کی سفارش پر یہ وعدہ لے کر چھوڑ دیا کہ تین دن کے اندراندر وہاں سے رخصت ہو جاوے والا اسے جاسوسی کی سزا میں قتل کر دیا جائے گا۔معاویہ نے وعدہ کیا کہ میں تین دن تک چلا جاؤں گا۔مگر جب یہ میعاد گزرگئی تو پھر بھی وہ وہیں خفیہ خفیہ پھرتا ہوا پایا گیا، جس پر اسے قتل کر دیا گیا۔تاریخ میں یہ مذکور نہیں ہوا کہ اس کی نیت کیا تھی۔مگر اس طرح خفیہ خفیہ مدینہ کے علاقہ میں رہنا اور باوجود متنبہ کر دئے جانے کے مقررہ معیاد کے بعد بھی ٹھہرے رہنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی خطرناک ارادے سے وہاں ٹھہرا ہوا تھا اور کوئی تعجب نہیں کہ وہ احد کے میدان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بیچ جانے پر پیچ و تاب کھا تا ہوا مدینہ میں آپ کے خلاف کوئی بدا رادہ لے کر آیا ہو : زرقانی ابن ہشام ابن ہشام