سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 568 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 568

۵۶۸ غنیمت جانو اور مکہ واپس لوٹ چلو ایسا نہ ہو کہ یہ شہرت بھی کھو بیٹھو اور یہ فتح شکست کی صورت میں بدل جاوے کیونکہ اب اگر تم لوگ واپس لوٹ کر مدینہ پر حملہ آور ہو گے تو یقینا مسلمان جان تو ڑ کر لڑیں گے اور جو لوگ اُحد میں شامل نہیں ہوئے تھے وہ بھی میدان میں نکل آئیں گے یا مگر بالآخر جو شیلے لوگوں کی رائے غالب آئی اور قریش مدینہ کی طرف لوٹنے کے لئے تیار ہو گئے۔" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ان واقعات کی اطلاع ہوئی تو آپ نے فوراً اعلان فرمایا کہ مسلمان تیار ہو جائیں مگر ساتھ ہی یہ حکم بھی دیا کہ سوائے ان لوگوں کے جو اُحد میں شریک ہوئے تھے اور کوئی شخص ہمارے ساتھ نہ نکلے۔۔چنانچہ اُحد کے مجاہدین جن میں سے اکثر زخمی تھے اپنے زخموں کو باندھ کر اپنے آقا کے ساتھ ہو لئے اور لکھا ہے کہ اس موقع پر مسلمان ایسی خوشی اور جوش کے ساتھ نکلے کہ جیسے کوئی فاتح لشکر فتح کے بعد دشمن کے تعاقب میں نکلتا ہے۔آٹھ میل کا فاصلہ طے کر کے آپ حمراء الاسد میں پہنچے۔" جہاں دو مسلمانوں کی نعشیں میدان میں پڑی ہوئی پائی گئیں اور تحقیقات پر معلوم ہوا کہ یہ وہ جاسوس تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے پیچھے روانہ کئے تھے مگر جنہیں قریش نے موقع پا کر تل کر دیا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان شہداء کو ایک قبر کھدوا کر اس میں اکٹھا دفن کر وا دیا۔اور اب چونکہ شام ہو چکی تھی آپ نے یہیں ڈ میرا ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ میدان میں مختلف مقامات پر آگ روشن کر دی جاوے۔چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے حمراء الاسد کے میدان میں پانچ سو آ گئیں شعلہ زن ہو گئیں جو ہر دور سے دیکھنے والے کے دل کو مرعوب کرتی تھیں۔غالباً اسی موقع پر قبیلہ خزاعہ کا ایک مشرک رئیس معبد نامی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اُحد کے مقتولین کے متعلق اظہار ہمدردی کی اور پھر اپنے راستہ پر روانہ ہو گیا۔دوسرے دن جب وہ مقام روحاء میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ قریش کالشکر وہاں ڈیرا ڈالے پڑا ہے۔اور مدینہ کی طرف واپس چلنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔معبد فوراً ابوسفیان کے پاس گیا اور اسے جا کر کہنے لگا کہ تم کیا کرنے لگے ہو۔واللہ میں تو ابھی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لشکر کو حمراء الاسد میں چھوڑ کر آیا ہوں اور ایسا با رعب لشکر میں نے کبھی نہیں دیکھا اور اُحد کی ہزیمت کی ندامت میں ان کو اتنا جوش ہے کہ تمہیں دیکھتے ہی بھسم کر جائیں گے۔ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں پر معبد کی ان باتوں سے ایسا رعب پڑا کہ وہ مدینہ کی طرف لوٹنے کا ارادہ ترک کر کے فوراً مکہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ل : زرقانی و خمیس ابن ہشام ابن سعد ه: ابن سعد : ابن ہشام وابن سعد طبری وابن ہشام