سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 527 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 527

۵۲۷ بن حارثہ اور ان کے ساتھی ایک کثیر مال غنیمت کے ساتھ مدینہ میں بانیل ومرام واپس آگئے۔بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ قریش کے اس قافلہ کا راہبر ایک فرات نامی شخص تھا جو مسلمانوں کے ہاتھ قید ہوا اور مسلمان ہونے پر رہا کر دیا گیا۔لیکن دوسری روایتوں سے پتہ لگتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف مشرکین کا جاسوس تھا، مگر بعد میں مسلمان ہو کر مدینہ میں ہجرت کر کے آ گیا۔قتل کعب بن اشرف جمادی الآخرة ۳ ہجری بدر کی جنگ نے جس طرح مدینہ کے یہودیوں کی دلی عداوت کو ظاہر کر دیا تھا اس کا ذکر غزوہ بنو قینقاع کے بیان میں گزر چکا ہے، مگر افسوس ہے کہ بنو قینقاع کی جلا وطنی بھی دوسرے یہودیوں کو اصلاح کی طرف مائل نہ کر سکی اور وہ اپنی شرارتوں اور فتنہ پردازیوں میں ترقی کرتے گئے۔چنانچہ کعب بن اشرف کے قتل کا واقعہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔کعب گوند ہبا یہودی تھا لیکن دراصل یہودی النسل نہ تھا بلکہ عرب تھا۔اس کا باپ اشرف بنو مہان کا ایک ہوشیار اور چلتا پرزہ آدمی تھا جس نے مدینہ میں آکر بنو نضیر کے ساتھ تعلقات پیدا کئے اور ان کا حلیف بن گیا اور بالآخر اس نے اتنا اقتدار اور رسوخ پیدا کرلیا کہ قبیلہ بنونضیر کے رئیس اعظم ابورافع بن ابی الحقیق نے اپنی لڑکی اسے رشتہ میں دے دی۔اسی لڑکی کے بطن سے کعب پیدا ہوا جس نے بڑے ہو کر اپنے باپ سے بھی بڑھ کر رتبہ حاصل کیا۔حتی کہ بالآخر ا سے یہ حیثیت حاصل ہوگئی کہ تمام عرب کے یہودی اسے گویا اپنا سر دار سمجھنے لگ گئے۔کعب ایک وجیہ اور شکیل شخص ہونے کے علاوہ ایک قادر الکلام شاعر اور ایک نہایت دولتمند آدمی تھا اور ہمیشہ اپنی قوم کے علماء اور دوسرے ذی اثر لوگوں کو اپنی مالی فیاضی سے اپنے ہاتھ کے نیچے رکھتا تھائے مگر اخلاقی نقطہ نگاہ سے وہ ایک نہایت گندے اخلاق کا آدمی تھا اور خفیہ چالوں اور ریشہ دوانیوں کے فن میں اسے کمال حاصل تھا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں ہجرت کر کے تشریف لائے تو کعب بن اشرف نے دوسرے یہودیوں کے ساتھ مل کر اس معاہدہ میں شرکت اختیار کی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور یہود کے درمیان باہمی دوستی اور امن و امان اور مشتر کہ دفاع کے متعلق تحریر کیا گیا تھا۔مگر اندر ہی اندر کعب کے دل میں بغض و عداوت کی آگ سلگنے لگ گئی اور اس نے خفیہ چالوں اور مخفی ساز باز سے اسلام اور بانی اسلام کی مخالفت شروع کر دی۔چنانچہ لکھا ہے کہ کعب ہر سال یہودی علماء ومشائخ کو بہت سی خیرات ابن سعد زرقانی : اصابه واستيعاب ۵: زرقانی جلد ۲ صفحه ۹ ابن ہشام