سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 518 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 518

۵۱۸ بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے بھی منصوبے شروع کر دیے تھے کیونکہ روایت آتی ہے کہ جب ان دنوں میں طلحہ بن براء جو ایک مخلص صحابی تھے فوت ہونے لگے تو انہوں نے وصیت کی کہ اگر میں رات کو مروں تو نماز جنازہ کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع نہ دی جاوے تا ایسا نہ ہو کہ میری وجہ سے آپ پر یہود کی طرف سے کوئی حادثہ گزر جاوے۔الغرض جنگ بدر کے بعد یہود نے کھلم کھلا شرارت شروع کر دی اور چونکہ مدینہ کے یہود میں بنو قینقاع سب میں زیادہ طاقتور اور بہادر تھے اس لئے سب سے پہلے انہی کی طرف سے عہد شکنی شروع ہوئی۔چنانچہ مؤرخین لکھتے ہیں کہ اِنَّ بَنِي قَيْنِقَاعَ كَانُوا أَوَّلَ يَهُودٍ نَقَضُوا مَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ - فَلَمَّا كَانَتْ وَقْعَةُ بَدْرٍ اَظْهَرُوا الْبَغْيَ وَالْحَسَدَ وَنَبَدُوا الْعَھد کے یعنی مدینہ کے یہودیوں میں سب سے پہلے بنو قینقاع نے اس معاہدہ کو تو ڑا جو ان کے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہوا تھا اور بدر کے بعد انہوں نے بہت سرکشی شروع کر دی اور بر ملاطور پر بغض وحسد کا اظہار کیا اور عہد و پیمان کو توڑ دیا۔مگر با وجود اس قسم کی باتوں کے مسلمانوں نے اپنے آقا کی ہدایت کے ماتحت ہر طرح سے صبر سے کام لیا اور اپنی طرف سے کوئی پیش دستی نہیں ہونے دی، بلکہ حدیث میں آتا ہے کہ اس معاہدہ کے بعد جو یہود کے ساتھ ہوا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاص طور پر یہود کی دلداری کا خیال رکھتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ ایک مسلمان اور ایک یہودی میں کچھ اختلاف ہو گیا۔یہودی نے حضرت موسی کی تمام انبیاء پر فضیلت بیان کی۔صحابی کو اس پر غصہ آیا اور اس نے یہودی کے ساتھ کچھ پتی کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو افضل الرسل بیان کیا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو آپ ناراض ہوئے اور اس صحابی کو ملامت فرمائی اور کہا کہ تمہارا یہ کام نہیں کہ تم خدا کے رسولوں کی ایک دوسرے پر فضیلت بیان کرتے پھرو۔اور پھر آپ نے موسی کی ایک جزوی فضیلت بیان کر کے یہودی کی دلداری فرمائی۔مگر با وجود اس دلدا را نه سلوک کے یہودی اپنی شرارت میں ترقی کرتے گئے اور بالآخر خود یہود کی طرف سے ہی جنگ کا باعث پیدا ہوا اور ان کی قلبی عداوت ان کے سینوں میں سما نہ سکی اور یہ اس طرح پر ہوا کہ ایک مسلمان خاتون بازار میں ایک یہودی کی دکان پر کچھ سودا خریدنے کے لئے گئی۔بعض شریر یہودیوں نے جو اس وقت اس دکان پر بیٹھے ہوئے تھے اسے نہایت او با شانہ طریق پر چھیڑا اور خود دوکاندار نے یہ ا : اصابه جلد ۳ صفحه ۵۸۰ مسلم جلد ۲ باب من فضائل موسی صفحه ۳۰۸ ابن ہشام وطبری : ابن سعد