سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 475 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 475

۴۷۵ پر آزاد کئے جانے کا مطالبہ نہ کریں، مسلمانوں کا رشتہ نکاح قائم ہوسکتا ہے۔اور اس انتظام کی غرض وغایت اسلام نے یہ رکھی کہ تا قیدی عورتوں اور اس کی وجہ سے ان کے قید کرنے والوں کے اخلاق خراب ہونے سے محفوظ رہیں اور سوسائٹی میں بدی اور بدکاری پھیلنے نہ پائے۔تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ عموما جب کبھی بھی کسی قوم کو کوئی بڑی جنگ پیش آئی ہے تو اس کے بعد اس قوم میں عمو مآزنا اور بدکاری کا مرض پھیل گیا ہے۔کیونکہ اول تو جنگ میں عموماً عورتوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے۔دوسرے جنگ کے مصائب کی وجہ سے مردوں کے اعصاب پر ایسا اثر پڑتا ہے کہ جس کی وجہ سے ان میں عموماً ضبط نفس کا مادہ کمزور ہو جاتا ہے۔پس چونکہ اسلام انفرادی اور قومی اخلاق کی حفاظت کے سوال کو باقی تمام تمدنی اور معاشرتی امور پر ترجیح دیتا ہے،اس لئے ضروری تھا کہ اس قسم کے حالات کے لئے کوئی خاص احتیاطی احکام جاری کئے جاتے۔چنانچہ ایسا کیا گیا کہ ایک طرف تو تعد دازدواج کی استثنائی اجازت دے دی گئی اور دوسری طرف ان عورتوں کے متعلق جو ایسے جنگوں میں قید ہو کر آئیں جن میں کوئی قوم مسلمانوں کے مذہب کو برباد کرنے کے لئے ان پر حملہ آور ہوئی ہو یہ حکم دیا گیا کہ اگر ان کے مردان کے ساتھ قید نہ ہوں اور نہ ہی وہ انہیں چھڑانے کے لئے جلد پہنچیں اور نہ ہی یہ قیدی عورتیں خود مکاتبت کے طریق پر آزاد کئے جانے کا مطالبہ کریں تو ان کے ساتھ مسلمانوں کو استثنائی طور پر رشتہ قائم کرنے کی اجازت ہے تا کہ نہ تو ان قیدی عورتوں کے اخلاق خراب ہوں اور نہ ان کی وجہ سے مسلمانوں کی سوسائٹی میں بدکاری رونما ہونے پائے اور اس انتظام میں نسلی اختلاط و اشتباہ سے بچانے کے لئے یہ شرط لگا دی گئی کہ قیدی عورتوں کے ساتھ اس اطمینان کے بعد رشتہ ہونا چاہئے کہ وہ حاملہ نہیں ہیں۔یہ سسٹم شاید جدید تہذیب و تمدن کے دل دادگان کو اچنبھا نظر آئے گا لیکن اگر ان حالات کو مدنظر رکھا جاوے جن کے لئے یہ انتظام مقصود ہے تو کم از کم وہ لوگ جو انفرادی اور قومی اخلاق کی حفاظت کے خیال پر دوسرے خیالات کو قربان کرنا جانتے ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ ان حالات کے ماتحت جن میں یہ انتظام جاری کیا گیا تھا۔یہ ایک بہت دانشمندانہ انتظام تھا جو بنی نوع انسان کی حقیقی بہتری کے لئے استثنائی حالات میں ضروری سمجھا گیا۔علاوہ ازیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جب مکاتبت کا دروازہ ہر قیدی عورت کے لئے کھلا ہے تو جو عورت اس سے فائدہ نہیں اٹھاتی اس کے متعلق یہی سمجھا جائے گا کہ وہ اپنے سابقہ رشتوں کو قطع کر کے اسلامی سوسائٹی کا جز و بنا چاہتی ہے۔پس اس حالت میں اس کے ساتھ کسی مسلمان کا رشتہ قائم ہونا قابل اعتراض نہیں ہوسکتا۔ترندی ابواب السیر صفحه ۲۹۶