سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 452
۴۵۲ إِنْ تَطْعِنُوا فِي أَمَارَتِهِ فَقَدْ كُنتُمْ تَطْعِنُونَ فِي اَمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيْقًا لِلَا مَارَةِ وَإِنْ كَانَ لَمِنْ اَحَبَّ النَّاسِ إِلَيَّ وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ - یعنی " تم لوگوں نے اسامہ کے امیر بنائے جانے پر اعتراض کیا ہے اور اس سے پہلے تم اس کے باپ زید کی امارت پر بھی طعن کر چکے ہوں، مگر خدا کی قسم جس طرح زید امارت کا حق دار اور اہل تھا اور میرے محبوب ترین لوگوں میں سے تھا اسی طرح اسامہ بھی امارت کا اہل ہے اور میرے محبوب ترین لوگوں میں سے ہے۔“ پھر اس سے بڑھ کر کیا ہو گا کہ آپ نے اپنی حقیقی پھوپھی کی لڑکی زینب بنت جحش کو زید بن حارثہ سے بیاہ دیا اور عجیب کرشمہ یہ ہے کہ سارے قرآن میں اگر کسی صحابی کا نام مذکور ہوا ہے تو وہ یہی زید بن حارثہ ہیں۔۔پھر علم وفضل میں بھی بعض آزاد شدہ غلاموں نے بہت بڑا رتبہ حاصل کیا۔چنانچہ سالم بن معقل مولی ابی حذیفہ خاص الخاص علماء صحابہ میں سے سمجھتے جاتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن شریف کی تعلیم کے لئے جن چار صحابیوں کو مقرر فرمایا تھا ان میں سے ایک سالم بھی تھے۔اور تقویٰ وطہارت کی وجہ سے تعظیم و تکریم کا یہ حال تھا کہ حضرت عمر بلال کے متعلق اکثر کہا کرتے تھے کہ وہ ہمارا سردار ہے۔پھر صحابہ کے بعد بھی بعض آزاد شدہ غلاموں نے اسلامی سوسائٹی میں بہت بڑا مرتبہ حاصل کیا۔چنانچہ عطاء بن ابی رباح ، مجاہد بن جبیر، نافع مولیٰ ابن عمر اور موسیٰ بن عقبہ بزرگ ترین تابعین میں سے سمجھے جاتے تھے۔جن کے سامنے بڑے بڑے جلیل القدر لوگ زانوئے تلمیذی طے کرتے تھے۔تمام غلاموں کو یکلخت کیوں نہ آزاد کر دیا گیا پیشتر اس کے کہ ہم اس بحث کو ختم کریں اس سوال کا جواب دینا ضروری ہے کہ جب اسلام غلاموں کی آزادی اور رستگاری کا پیغام لے کر آیا تھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں نہ تمام حاضر الوقت غلاموں کو یکلخت حکماً آزاد کروا دیا ؟ سو اس کا مختصر اور سادہ جواب تو صرف اس قدر ہے کہ آپ نے اس لئے ایسا نہیں کیا کہ آپ غلاموں کے حقیقی دوست تھے اور آپ کا کام اصلاح کرنا تھا نہ کہ نمائش۔پس آپ نے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جو بظاہر تو دوستی کا رنگ رکھتا ہو لیکن حقیقتا وہ غلاموں کے لئے نقصان دہ اور ملک کی ترقی اور تمدن کے لئے ضرر رساں ہو۔ہر ایک عقل مند شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس وقت کے حالات بخاری کتاب فضائل اصحاب سے ، بخاری کتاب فضائل سورۃ احزاب : ۳۸ ۵ : تہذیب التہذیب