سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 414 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 414

۴۱۴ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ یہی یقین رکھتے تھے کہ ان جنگوں میں ابتدا کفار کی طرف سے ہوئی ہے اور آپ نے مجبور ہو کر محض خود حفاظتی میں تلوار اٹھائی ہے۔اپنے مقتولین کی دیکھ بھال ہوئی تو معلوم ہوا کہ کل چودہ آدمی شہید ہوئے ہیں۔جن میں سے چھ مہاجرین میں سے تھے اور باقی انصار تھے۔انہیں میں وہ مخلص بچہ عمیر وقاص بھی تھا، جس نے روکر ساتھ آنے کی اجازت حاصل کی تھی۔اس کے علاوہ زخمی تو بہت سے صحابہ ہوئے تھے لیکن یہ نقصان ایسا نہیں تھا کہ اس عظیم الشان دینی فتح کی خوشی کو مکدر کر سکتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور جملہ مسلمان شکر وامتنان کے جذبات سے معمور تھے۔تین دن تک آپ نے بدر کی وادی میں قیام فرمایا۔اور یہ وقت اپنے شہداء کی متخلفین و تد فین اور اپنے زخمیوں کی مرہم پٹی میں گزرا۔اور انہی دنوں میں غنیمت کے اموال کو جمع کر کے مرتب کیا گیا اور کفار کے قیدیوں کو جن کی تعدا دست تھی محفوظ کر کے مختلف مسلمانوں کی سپردگی میں دے دیا گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو تاکید کی کہ قیدیوں کے ساتھ نرمی اور شفقت کا سلوک کریں اور ان کے آرام کا خیال رکھیں۔صحابہ نے جن کو اپنے آقا کی ہر خواہش کے پورا کرنے کا عشق تھا آپ کی اس نصیحت پر اس خوبی کے ساتھ عمل کیا کہ دنیا کی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔چنانچہ خودان قیدیوں میں سے ایک قیدی ابوعزیز بن عمیر کی زبانی روایت آتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی وجہ سے انصار مجھے تو پکی ہوئی روٹی دیتے تھے لیکن خود کھجور وغیرہ کھا کر گزارہ کر لیتے تھے اور کئی دفعہ ایسا ہوتا تھا کہ ان کے پاس اگر روٹی کا چھوٹا ٹکڑا بھی ہوتا تھا تو وہ مجھے دے دیتے تھے اور خود نہیں کھاتے تھے اور اگر میں کبھی شرم کی وجہ سے واپس کر دیتا تھا تو وہ اصرار کے ساتھ پھر مجھی کو دے دیتے تھے۔جن قیدیوں کے پاس لباس کافی نہیں تھا انہیں کپڑے مہیا کر دئیے گئے تھے۔چنانچہ عباس کو عبداللہ بن ابی نے اپنی قمیص دی تھی۔ہے سرولیم میور نے قیدیوں کے ساتھ اس مشفقانہ سلوک کا مندرجہ ذیل الفاظ میں اعتراف کیا ہے۔محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی ہدایت کے ماتحت انصار و مہاجرین نے کفار کے قیدیوں کے ساتھ بڑی محبت اور مہربانی کا سلوک کیا۔چنانچہ بعض قیدیوں کی اپنی شہادت تاریخ میں ان الفاظ میں مذکور ہے کہ ”خدا بھلا کرے مدینہ والوں کا وہ ہم کو سوار کرتے تھے اور آپ پیدل چلتے تھے۔ہم کو گندم کی پکی ہوئی روٹی دیتے تھے اور آپ صرف کھجوریں کھا کر پڑرہتے تھے۔طبری وابن ہشام حالات غزوہ بدر بخاری