سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 411
۴۱۱ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ دیا کرتا تھا میں نے خدا سے عہد کیا ہوا ہے کہ میں اسے قتل کروں گا یا قتل کرنے کی کوشش میں مارا جاؤں گا۔میں نے ابھی اس کا جواب نہ دیا تھا کہ دوسری طرف سے دوسرے نے بھی اسی طرح آہستہ سے یہی سوال کیا۔میں ان کی یہ جرات دیکھ کر حیران سا رہ گیا۔کیونکہ ابوجہل گویا سردا را شکر تھا اور اس کے چاروں طرف آزمودہ کا رسپاہی جمع تھے۔میں نے ہاتھ سے اشارہ کر کے کہا کہ وہ ابو جہل ہے۔عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میرا اشارہ کرنا تھا کہ وہ دونوں بچے باز کی طرح جھپٹے اور دشمن کی صفیں کاٹتے ہوئے ایک آن کی آن میں وہاں پہنچ گئے اور اس تیزی سے وار کیا کہ ابوجہل اور اس کے ساتھی دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے اور ابو جہل خاک پر تھالے عکرمہ بن ابو جہل بھی اپنے باپ کے ساتھ تھا۔وہ اپنے باپ کو تو نہ بچا سکا مگر اس نے پیچھے سے معاذ پر ایسا وار کیا کہ ان کا بایاں بازو کٹ کر لٹکنے لگ گیا۔معاذ نے عکرمہ کا پیچھا کیا مگر وہ بیچ کر نکل گیا۔چونکہ کٹا ہوا باز ولڑنے میں مزاحم ہوتا تھا۔معاذ نے اسے زور کے ساتھ کھینچ کر اپنے جسم سے الگ کر دیا اور پھر لڑنے لگ گئے۔یہ غرض کیا مہاجر اور کیا انصار سب مسلمان پورے زور وشور اور اخلاص کے ساتھ لڑے مگر دشمن کی کثرت اور اس کے سامان کی زیادتی کچھ پیش نہ جانے دیتی تھی اور نتیجہ ایک عرصہ تک مشتبہ رہا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم برابر دعا وابتہال میں مصروف تھے اور آپ کا اضطراب لحظہ بہ لحظہ بڑھتا جاتا تھا مگر آخر ایک کافی لمبے عرصے کے بعد آپ سجدہ سے اٹھے اور 066 خدائی بشارت سَيُهُزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ۔کہتے ہوئے سائبان سے باہر نکل آئے۔۔باہر آکر آپ نے چاروں طرف نظر دوڑائی تو کشت و خون کا میدان گرم پایا۔اس وقت آپ نے ریت اور کنکر کی ایک مٹھی اٹھائی اور اسے کفار کی طرف پھینکا۔اور جوش کے ساتھ فرمایا شَاهَتِ الْوُجُوهُ دشمنوں کے منہ بگڑ جائیں۔اور ساتھ ہی آپ نے مسلمانوں سے پکار کر فرمایا یکدم حملہ کرو۔مسلمانوں کے کانوں میں اپنے محبوب آقا کی آواز پہنچی اور انہوں نے تکبیر کا نعرہ لگا کر یکدم حملہ کر دیا۔دوسری طرف ادھر آپ کا مٹھی بھر کر ریت پھینکنا تھا کہ ایسی آندھی کا جھونکا آیا کہ کفار کی آنکھیں بخاری کتاب المغازی یعنی لشکر کفار ضرور پسپا ہوگا اور پیٹھ دکھائے گا۔یہ قرآن کریم سورۃ قمر کی آیت ۴۶ ہے جو کہ مکہ میں ہجرت طبری سے پہلے بطور پیشگوئی کے نازل ہوئی تھی اور اب خدا نے اسے آپ کی زبان پر دوبارہ جاری کر کے بتایا کہ کفار مکہ کے لئے اب وہی موعود ساعت آگئی۔ه: طبری و زرقانی : سورۃ انفال : طبری ۱۸ :