سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 410
۴۱۰ ،، اپنے وعدے ضرور پورے کرے گا۔مگر اس بچے مقولہ کے مطابق کہ ہر کہ عارف تر است ترساں تر۔“ آپ برابر دعا اور گریہ وزاری میں مصروف رہے۔دوسری طرف جب دونوں فوجیں ایک دوسرے سے بھڑ گئیں تو ابو جہل رئیس قریش نے بھی یوں دعا کی کہ ” اے خدا! وہ فریق جس نے رشتوں کو توڑ رکھا ہے اور دین میں ایک بدعت پیدا کی ہے تو آج اسے اس میدان میں تباہ و برباد کر۔ایک دوسری روایت کے میں آتا ہے کہ اس موقع پر یا اس سے قبل ابو جہل نے یہ دعا کی تھی کہ اے ہمارے رب اگر محمد کا لایا ہوا دین سچا ہے تو آسمان سے ہم پر پتھروں کی بارش برسا یا کسی اور درد ناک عذاب سے ہمیں تباہ و برباد کر ۴ اب میدان کارزار میں کشت وخون کا میدان گرم تھا۔مسلمانوں کے سامنے ان سے سہ چند جماعت تھی جو ہر قسم کے سامان حرب سے آراستہ ہو کر اس عزم کے ساتھ میدان میں نکلی تھی کہ اسلام کا نام ونشان مٹا دیا جاوے۔اور مسلمان بیچارے تعداد میں تھوڑے، سامان میں تھوڑے، غربت اور بے وطنی کے صدمات کے مارے ہوئے ظاہری اسباب کے لحاظ سے اہل مکہ کے سامنے چند منٹوں کا شکار تھے، مگر توحید اور رسالت کی محبت نے انہیں متوالا بنا رکھا تھا اور اس چیز نے جس سے زیادہ طاقتور دنیا میں کوئی چیز نہیں یعنی زندہ ایمان نے ان کے اندر ایک فوق العادت طاقت بھر دی تھی۔وہ اس وقت میدانِ جنگ میں خدمت دین کا وہ نمونہ دکھا رہے تھے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ہر اک شخص دوسرے سے بڑھ کر قدم مارتا تھا اور خدا کی راہ میں جان دینے کے لئے بے قرار نظر آتا تھا۔حمزہ اور علی اور زبیر نے دشمن کی صفوں کی صفیں کاٹ کر رکھ دیں۔انصار کے جوشِ اخلاص کا یہ عالم تھا کہ عبد الرحمن بن عوف روایت کرتے ہیں کہ جب عام جنگ شروع ہوئی تو میں نے اپنے دائیں بائیں نظر ڈالی۔مگر کیا دیکھتا ہوں کہ انصار کے دونو جوان لڑکے میرے پہلو بہ پہلو کھڑے ہیں۔انہیں دیکھ کر میرا دل کچھ بیٹھ سا گیا کیونکہ ایسے جنگوں میں دائیں بائیں کے ساتھیوں پر لڑائی کا بہت انحصار ہوتا تھا اور وہی شخص اچھی طرح لڑ سکتا ہے جس کے پہلو محفوظ ہوں۔مگر عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں اس خیال میں ہی تھا کہ ان لڑکوں میں سے ایک نے مجھ سے آہستہ سے پوچھا کہ گویا وہ دوسرے سے اپنی یہ بات مخفی رکھنا چاہتا ہے کہ چا وہ ابو جہل کہاں ہے جو مکہ میں ابن ہشام : بخاری تفسیر سورۃ انفال ے مسلم : ابو جہل کی یہ دعا ئیں بھی اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس مہم میں رؤساء قریش کا اصل مقصد اسلام اور مسلمانوں کو مٹانا تھا اور عمر وحضرمی کے قتل کا انتقام وغیرہ ایک محض بہانہ اور عامتہ الکفار کو جوش دلانے کا آلہ تھا۔