سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 395 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 395

۳۹۵ جنگ بدر اسلامی سلطنت کا استحکام اور رؤساء قریش کی تباہی جنگ بدر - رمضان ۲ ہجری مطابق مارچ ۶۲۴ء اب ہم جنگ بدر کے حالات کا ذکر شروع کرتے ہیں۔یہ بیان کیا جاچکا ہے کہ ہجرت نبوی کے بعد قریش مکہ نے مدینہ پر حملہ آور ہو کر مسلمانوں کو تباہ و برباد کر دینے کی تیاری شروع کر دی تھی اور اس دوران میں سر یہ وادی نخلہ میں جو عمرو بن حضرمی کے قتل کا واقعہ ہوا تھا اس سے رؤساء قریش نے ناجائز فائدہ اٹھا کر عامۃ الکفار کے دلوں میں مسلمانوں کی عداوت کی آگ کو اور بھی زیادہ خطر ناک طور پر شعلہ زن کر دیا تھا اور اس شخص کی طرح جسے اپنے وہ مظالم تو بھول جاتے ہیں جو وہ خود دوسروں پر کرتا رہا ہے لیکن اگر کسی دوسرے کی طرف سے اسے ذراسی بھی تکلیف پہنچ جاوے تو وہ اسے ہمیشہ یا درکھتا ہے۔خواہ وہ جوابی رنگ ہی رکھتی ہو۔قریش مکہ مسلمانوں پر حملہ کر کے ان کو تباہ و برباد کر دینے کی تیاری میں پہلے سے بھی زیادہ جوش و خروش کے ساتھ منہمک ہو گئے تھے۔اسی اثناء میں مدینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ قریش مکہ کا ایک تجارتی قافلہ جس کے ساتھ تمیں چالیس یا بعض روایات کی رو سے ستر آدمی تھے ابوسفیان کی سرداری میں شام کی طرف سے مکہ کو واپس آ رہا ہے۔اس قافلہ میں غیر معمولی طور پر قریش کے ہر مرد عورت کا حصہ تھا بلکہ لکھا ہے کہ جو چیز اور جو رقم بھی وہ تجارت میں لگا سکتے تھے وہ اس موقع پر انہوں نے لگا دی تھی۔یا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ غالبا اس تجارت کے منافع کے متعلق قریش کا یہ فیصلہ تھا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف جنگی مصارف میں خرچ ہوگا۔چونکہ قافلوں کی روک تھام ظالم قریش کو ابن ہشام و زرقانی : ابن سعد حالات غزوہ بدر