سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 381 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 381

۳۸۱ نماز سے اتر کر اسلامی عبادات کا دوسرا بڑا رکن روزہ ہے۔دراصل اسلام نے مختلف قسم صیام رمضان کی عبادات مختلف قسم کے تزکیۂ نفس کو مد نظر رکھ کر شروع کی ہیں۔یعنی اگر نماز ایک رنگ میں انسان کی آلائشوں اور کمزوریوں کو دور کرتی ہے اور اسے خدا کا مقرب بننے کے قابل بناتی ہے تو روزے کسی دوسرے رنگ میں یہ کام سرانجام دیتے ہیں اور زکوۃ ایک تیسرے میدان کے لئے مقرر ہے اور حج ان تینوں کے علاوہ ایک چوتھا مقصد ہے اور اس طرح مختلف عبادتیں مختلف مقاصد کو پورا کرتی ہیں اور مختلف جہات سے انسان کی اصلاح اور ترقی کے کام میں محمد ہوتی ہیں اور اگر غور کیا جاوے تو یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس ترتیب سے اسلامی عبادات کے مختلف ارکان شروع ہوئے ہیں وہی ان کی اہمیت کی ترتیب بھی ہے۔یعنی سب سے زیادہ اہم اور سب سے زیادہ وسیع طور پر انسانی اخلاق اور روحانیت پر اثر ڈالنے والی عبادت وہ ہے جو سب سے پہلے قائم کی گئی اور اس کے بعد اس سے کم درجہ کی قائم کی گئی اور اس کے بعد اس سے کم کی وعلی ھذا القیاس۔اور جو لوگ عبادات کو محض ایک رسم کے طور پر ادا نہیں کرتے اور ان کے اثر کو اپنے نفوس میں مطالعہ کرنے کے عادی ہیں وہ یہ بات آسانی کے ساتھ سمجھ سکتے ہیں کہ عبادات میں اول نمبر نماز کا ہے اور پھر اس سے اتر کر روزہ کا۔اور پھر دوسری عبادات کا۔بہر حال اس وقت تک صرف نماز مشروع ہوئی تھی اور اب ہجرت کے دوسرے سال رمضان کی آمد پر روزوں کا بھی آغاز ہوا۔یعنی یہ حکم نازل ہوا کہ رمضان کے مہینہ میں تمام بالغ مسلمان مرد و عورت باستثنا بیماروں اور نا توانوں کے اور باستثنا مسافروں کے صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک ہر قسم کے کھانے پینے سے پر ہیز کریں اوران اوقات میں خاوند بیوی کے مخصوص تعلقات سے بھی پرہیز کیا جاوے اور روزوں کے ایام کو خصوصیت کے ساتھ ذکر الہی اور قرآن خوانی اور صدقہ و خیرات میں گزارا جاوے اور روزوں کی راتوں میں مخصوص طور پر نماز تہجد کا التزام کیا جاوے وغیر ذالک۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لکھا ہے کہ آپ کا رمضان گویا ایک مجسم عبادت کا رنگ رکھتا تھا اور گولیوں تو آپ کی ساری زندگی ہی عبادت تھی ، مگر روزوں میں آپ خصوصیت سے بیشتر حصہ وقت کا نوافل اور ذکر الہی میں گزارتے تھے اور راتوں کو کثرت کے ساتھ جاگتے تھے اور رمضان میں آپ اتنا صدقہ و خیرات کرتے تھے کہ صحابہ نے اس کو ایک تیز ہوا کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو کسی روک کو خیال میں نہ لائے۔نیز روزہ کی روح کو زندہ رکھنے کے لئے آپ ہمیشہ صحابہ کو یہ نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ یہ نہ سمجھو کہ بس کھانا پینا چھوڑنے کی رسم ادا کر کے تم خدا کے قرآن شریف سورۃ بقره و بخاری ابواب الصيام طبری بخاری