سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 380
۳۸۰ اور اس ظاہر وباطن کی پجہتی سے یہ فائدہ ہوگا کہ تم خواہ دنیا کے کسی حصہ میں پھیلے ہوئے ہو گے تم میں اتحادر ہے گا۔بے شک اللہ جو چاہتا ہے اس پر قدرت رکھتا ہے۔“ ان آیات قرآنی میں جہاں تحویل قبلہ کا حکم ہے وہاں قبلہ کی حکمت اور ضرورت بھی بیان کی گئی ہے کہ اس سے قوم میں ظاہری بیجہتی اور اتحاد فی الصورت قائم رہتے ہیں اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شروع شروع میں اللہ تعالیٰ نے ایک عرصہ تک مسلمانوں کو بیت المقدس کے قبلہ پر اس مصلحت سے قائم رکھا تھا کہ وہ مشرکین عرب کے لئے جن کی ساری توجہ کا مرکز کعبہ تھا بطور ایک امتحان کے رہے اور وہ اپنے اندر ایمان کی خاطر قربانی کرنے کی روح پیدا کریں، لیکن جب آزمائش کا مناسب زمانہ گزر گیا تو اصل قبلہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دے دیا گیا۔اس موقع پر سرولیم میور نے اعتراض کیا ہے کہ شروع شروع میں مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کر کے اس لئے نماز پڑھتے تھے تا کہ اس طرح مدینہ کے یہودیوں کو اپنی طرف مائل کریں ، لیکن جب دیکھا کہ وہ اس داؤ میں نہیں آتے تو رخ بدل کر کعبہ کی طرف کر لیا گیا تا کہ مشرکین عرب کو خوش کرنے کی کوشش کی جاوے۔تعصب بے شک انسان کو اندھا کر دیتا ہے لیکن اگر سرولیم جیسا قابل شخص جو ہندوستان کے ایک بہت بڑے صوبے کا کامیاب حاکم رہ چکا ہے اسلام کے متعلق ایسی بے بنیاد باتیں کرے تو جائے تعجب ضرور ہے، مگر حقیقت ایسی واضح ہے کہ کسی کے چھپائے چھپ نہیں سکتی۔جو طریق عمل ہجرت سے کئی سال پہلے مکہ میں جاری ہوا ہو اور مدینہ جانے پر چند ماہ کے بعد منسوخ کر دیا ہو اس کے متعلق یہ دعویٰ کرنا کہ وہ یہود مدینہ کو خوش کرنے کے لئے جاری کیا گیا تھا اور اس کی منسوخی کے متعلق یہ کہنا کہ وہ مشرکین کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے وقوع میں آئی تھی کسی عقل مند کو دھو کے میں نہیں ڈال سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ پہلا قبلہ مشرکین کے لئے بطور ایک امتحان کے تھا اور اس امتحان کا وقت ہجرت سے پہلے ہی مناسب تھا لیکن چونکہ مدینہ میں بھی مشرکین بستے تھے اس لئے مدینہ کے ابتدائی ایام میں بھی وہ امتحان جاری رہا۔مگر جب مشرکین مدینہ قریباً مفقود ہو گئے تو اس امتحان کی ضرورت نہ رہی اور تحویل قبلہ کا حکم نازل ہو گیا اور اس حکم میں دو مصلحتیں تھیں۔ایک یہ کہ مسلمان اپنے اصل قبلہ پر قائم ہو گئے اور دوسرے یہ کہ نیا قبلہ یہود کے لئے ایک امتحان بن گیا جیسا کہ پہلا قبلہ مشرکین کے لئے امتحان تھا۔پس حقیقت وہ نہیں جو میور صاحب کے خامہ تعصب نے خلق کی ہے بلکہ اس کے بالکل برعکس ہے اور قرآن جس کی شہادت کی تاریخی حیثیت کو میور صاحب نے سب شہادتوں سے بڑھ کر قرار دیا ہے اس کا شاہد ہے۔