سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 378
۳۷۸ عہد و پیمان کے کفار مکہ اور ان کے ساتھیوں نے حرم کے علاقہ میں مسلمانوں کے ایک حلیف قبیلہ کے خلاف تلوار چلائی اور پھر جب مسلمان اس قبیلہ کی حمایت میں نکلے تو ان کے خلاف بھی عین حرم میں تلوار استعمال کی۔پس اس جواب سے مسلمانوں کی تو تسلی ہونی ہی تھی قریش بھی کچھ ٹھنڈے پڑ گئے اور اس دوران میں ان کے آدمی بھی اپنے دو قیدیوں کو چھڑوانے کے لئے مدینہ پہنچ گئے لیکن چونکہ ابھی تک سعد بن ابی وقاص اور عقبہ واپس نہیں آئے تھے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے متعلق سخت خدشہ تھا کہ اگر وہ قریش کے ہاتھ پڑ گئے تو قریش انہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔اس لئے آپ نے ان کی واپسی تک قیدیوں کو چھوڑنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ میرے آدمی بخیریت مدینہ پہنچ جائیں گے تو پھر میں تمہارے آدمیوں کو چھوڑ دوں گا۔چنانچہ جب وہ دونوں واپس پہنچ گئے تو آپ نے فدیہ لے کر دونوں قیدیوں کو چھوڑ دیا لیکن ان قیدیوں میں سے ایک شخص پر مدینہ کے قیام کے دوران میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ اور اسلامی تعلیم کی صداقت کا اس قدر گہرا اثر ہو چکا تھا کہ اس نے آزاد ہو کر بھی واپس جانے سے انکار کر دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر مسلمان ہو کر آپ کے حلقہ بگوشوں میں شامل ہو گیا اور بالآخر بئر معونہ میں شہید ہوا۔اس کا نام حکم بن کیان تھا لے تحویل قبلہ باوجود جنگ وجدال کی بے انتہا مصروفیت کے تکمیل و تاسیس مذہب کا کام نہیں رک سکتا تھا کیونکہ بعثت نبوی کی یہی علت اولی تھی۔پنجگانہ نماز مکہ میں ہی شروع ہو چکی تھی۔مدینہ میں باجماعت نماز کے التزام نے اذان کی ضرورت محسوس کرائی اور اس کا انتظام کیا گیا۔مگر مسلمانوں کا قبلہ ابھی تک بیت المقدس تھا اور مکہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے اور مدینہ کے ابتدائی زمانہ میں بھی یہی طریق جاری رہا، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ مسلمانوں کا قبلہ مکہ کے کعبہ کو قرار دیا جاوے، کیونکہ وہ خدا کی عبادت کا پہلا گھر تھا جو دنیا میں تعمیر ہوا اور ابوالانبیاء حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور عربوں کے جد اعظم اسماعیل ذبیح اللہ کی یادگار بھی اسی گھر سے وابستہ تھی اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مولد ومسکن اور اسلام کا مبدا و منبع ہونے کی حیثیت میں بھی کعبہ ہی مسلمانوں کا قبلہ بننے کا حق دار تھا لیکن چونکہ ابھی تک کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے کا حکم نازل نہیں ہوا تھا اس لئے آپ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے اور یہ سلسلہ ہجرت کے سولہ سترہ ماہ بعد تک جاری رہا طبری