سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 24
۲۴ یعنی ابو جحیفۃ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ حضرت علی سے یہ دریافت کیا کہ کیا آپ کے پاس کچھ لکھا ہوا بھی ہے۔اس پر حضرت علی نے فرمایا کہ سوائے قرآن شریف کے اور کچھ نہیں۔ہاں ایک مسلمان کی خداداد عقل ہے جس سے وہ خودسوچ کر اور قیاس کر کے فتویٰ معلوم کر سکتا ہے؛ البتہ میرے پاس یہ ایک لکھا ہوا صحیفہ ضرور موجود ہے۔میں نے پوچھا اس صحیفہ میں کیا ہے۔فرمانے لگے اس میں فلاں فلاں مسئلہ کے متعلق چند حدیثیں لکھی ہیں۔“ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی کا بھی یہی طریق تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص خاص باتوں کو لکھ کر اپنے پاس محفوظ رکھتے تھے۔پھر ایک اور حدیث آتی ہے کہ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ فَقَالَ۔۔۔۔فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ اَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ أَكْتُبُ لِي فَقَالَ أَكْتُبُوا لَابِي فُلان د یعنی ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ دیا۔جس میں یہ یہ کچھ فرمایا۔اس پر ایک یمنی شخص نے آگے بڑھ کر عرض کیا یا رسول اللہ! یہ خطبہ مجھے لکھ دیجئے۔آپ نے حکم دیا کہ وہ خطبہ اُسے لکھ کر دے دیا جائے۔“ ان مثالوں سے ظاہر ہے کہ صحابہ کے زمانہ سے ہی حدیثوں کے لکھنے کا رواج شروع ہو چکا تھا۔اور بعض صحابہ اس پر کار بند تھے اور یقیناً اس کے بعد جوں جوں زمانہ گذرتا گیا حدیثوں کو لکھ کر محفوظ کر لینے کا رواج زیادہ ہوتا گیا مگر جیسا کہ ہم اوپر کہہ چکے ہیں اس مختصر نوٹ میں بعد کے زمانہ کی مثالیں درج کرنے کی گنجائش نہیں ؛ البتہ صرف اس اظہار کے لئے کہ بعد میں حدیثوں کے قلمبند کرنے کے طریق میں کس قدر وسعت ہو گئی تھی اس جگہ صرف ایک مثال پر اکتفا کی جاتی ہے۔یحیی بن معین ایک مشہور را وی گذرے ہیں جن سے امام بخاری اور امام مسلم اور ابوداؤد سجستانی وغیرہ بڑے بڑے محدثین نے روایت لی ہے ان کے متعلق یہ روایت آتی ہے کہ اُن کے پاس چھ لاکھ حدیث لکھی ہوئی محفوظ تھی جس سے وہ آگے روایت کیا کرتے تھے؛ چنانچہ وفیات الاعیان میں لکھا ہے کہ: سُئِلَ يَحْيَى كَمُ كَتَبْتَ مِنَ الْحَدِيثِ فَقَالَ كَتَبْتُ بِيَدِي هَذِهِ سِتَّ مِائَةِ أَلْفِ حَدِيث : بخاری کتاب العلم باب كتابة العلم : وقيات الاعيان مصنفه ابن خلكان حالات یحیٰ بن معین