سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 23 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 23

۲۳ نہیں ہوسکتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت سے صحابہ جیسی جماعت میں سے کسی فرد نے بھی فائدہ نہ اٹھایا ہو اور بہر حال جس صحابی کو آپ نے براہ راست مخاطب کر کے یہ الفاظ فرمائے تھے اس نے تو ضرور اس ارشاد کی تعمیل کی ہوگی۔مگر یہ صرف قیاس ہی نہیں ہے بلکہ حدیث میں صراحت کے ساتھ یہ ذکر آتا ہے کہ بعض صحابی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں لکھ لیا کرتے تھے؛ چنانچہ روایت آتی ہے کہ عبد اللہ بن عمر و بن العاص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے جو بھی سنتے تھے وہ لکھ لیا کرتے تھے۔اس پر بعض لوگوں نے انہیں منع کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کبھی خوش ہوتے ہیں کبھی غصہ میں ہوتے ہیں، تم سب کچھ لکھتے جاتے ہو۔یہ ٹھیک نہیں ہے۔عبداللہ بن عمرو نے اس پر لکھنا چھوڑ دیا، لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا : اكْتُبُ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يَخْرُجُ مِنْهُ إِلَّا الْحَقُّ نکلتا ہے۔یعنی تم بے شک لکھا کرو کیونکہ خدا کی قسم میری زبان سے جو کچھ نکلتا ہے حق اور راست اس کے بعد عبد اللہ بن عمر و آپ کی باتیں لکھ کر محفوظ کر لیا کرتے تھے ؛ چنانچہ بخاری میں آتا ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَا مِنْ اَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ أكْثَرَ حَدِيثًا عَنْهُ مِنّي إِلَّا مَا كَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ وَلَا اكْتُبُ د یعنی ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی کی مجھ سے زیادہ حدیث محفوظ نہیں ہے سوائے عبداللہ بن عمرو کے کیونکہ ان کی عادت تھی کہ حدیث سُن کر لکھ لیا کرتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا۔“ پھر ایک اور حدیث میں آتا ہے: عَنْ أَبِي جَحِيْفَةَ قَالَ قُلْتُ لِعَلِيٌّ هَلْ عِنْدَ كُمْ كِتَابٌ قَالَ لَا إِلَّا كِتَابُ اللهِ اَوْ فَهُمْ أعْطِيَهُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ اَوْ مَا فِى هَذِهِ الصَّحِيفَةِ قُلتُ مَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ قَالَ الْعَقْلُ وَفِكَاكُ الْآسِيرِ وَلَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ - : ابو داؤد کتاب العلم باب كتابة العلم : بخاری کتاب العلم باب كتابة العلم : بخاری کتاب العلم باب كتابة العلم