سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 360 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 360

۳۶۰ ۱۹ اسلامی لشکر کے ساتھ عموماً دو قسم کے جھنڈے ہوتے تھے ایک سفید ہوتا تھا جو کسی لکڑی وغیرہ پر لپٹا ہوتا تھا اسے لوا کہتے تھے۔دوسرا عموماً سیاہ ہوتا تھا جس کی ایک طرف کسی لکڑی وغیرہ سے بندھی ہوتی تھی اور وہ ہوا میں لہراتا تھا اسے رایہ کہتے تھے۔یہ دونوں قسم کے جھنڈے لڑائی کے وقت خاص خاص آدمیوں کے سپر د کر دئے جاتے تھے۔-۲۰ -۲۱ -۲۲ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عموما ہرلڑائی میں اپنی فوج کا کوئی لفظی شعار مقررفرما دیا کرتے تھے جس سے اپنا بیگا نہ پہچانا جاتا تھا۔فوج میں شور و شغب کو نا پسند کیا جاتا تھا اور نہایت خاموشی کے ساتھ کام کرنے کا حکم تھا۔لڑائی سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی فوج کے مختلف دستوں پر مختلف صحابیوں کو امیر مقرر کر کے ان کی جگہیں متعین فرما دیتے تھے اور فرائض سمجھا دیتے تھے۔ان کمانڈروں کے تقرر میں عموماً اس اصول کو مدنظر رکھا جاتا تھا کہ کسی دستہ پر اس شخص کو امیر بنایا جاوے جوان میں صاحب اثر ہو۔۲۳- بعض خاص خاص موقعوں پر آپ کا یہ بھی طریق تھا کہ صحابہ سے خاص بیعت لیتے تھے۔چنانچہ صلح حدیبیہ کے موقع پر بیعت لینے کا ذکر قرآن شریف میں بھی ہے۔- ۲۴ - ۲۵ میدان جنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہوتا تھا کہ جب تک میں حکم نہ دوں لڑائی شروع نہ کی جاوے۔لڑائی کے دوران میں بھی آپ خاص خاص احکام جاری فرماتے رہتے تھے اور خود یا کسی بلند آواز صحابی کے واسطے سے پکار پکار کر ضروری ہدایات کا اعلان فرماتے تھے۔۲۶۔مسلمانوں کو بھاگنے یا ہتھیار ڈالنے کی قطعاً اجازت نہیں تھی۔حکم تھا کہ یا غالب آؤ یا شہید ہو جاؤ۔ہاں جنگی اغراض کے لئے وقتی طور پر پیچھے ہٹ آنے کی اجازت تھی۔تا لیکن اگر کبھی کسی بشری کمزوری کے ماتحت بعض لوگ بھاگ جاتے تھے تو آپ ان سے زیادہ ناراض نہیں ہوتے تھے بلکہ انہیں آئندہ کے لئے ہمت دلاتے تھے اور فرماتے تھے کہ شاید تم لوگ جنگی تدبیر کے طور پر دوبارہ حملہ کرنے کے لئے پیچھے ہٹ آئے ہو گے۔: ابوداؤد Watchword L : 12۔19: سے : سورۃ انفال