سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 359
۳۵۹ امتیاز پیدا کیا۔بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ جب کسی جماعت کو روانہ فرماتے تھے تو اسے نصیحت فرماتے تھے کہ بَشِّرُوا وَلا تُنَفِّرُوا وَيَسِّرُوا وَلاَ تُعَسّرُوا یعنی ”لوگوں کو خوشخبریاں دو یعنی ان کو خوش رکھنے کی کوشش کرو اور ایسا طریق اختیار نہ کر وجس سے ان کے دلوں میں نفرت پیدا ہواوران کے لئے آسانیاں پیدا کرو اور انہیں مشکلوں میں مت ڈالو۔“ -١٣ - ۱۴ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ لازمی طریق تھا کہ جب کسی پارٹی یا دستہ یا فوج کو روانہ فرماتے تھے تو ان میں سے کسی شخص کو ان کا امیر مقرر فرما دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ اگر تین آدمی بھی ہوں تو انہیں چاہئے کہ اپنے میں سے کسی کو اپنا امیر بنالیا کریں اور آپ امیر کی اطاعت کی سخت تاکید فرماتے تھے۔حتی کہ فرمایا کہ اگر کوئی تم پر ایک بیوقوف حبشی غلام بھی امیر مقرر کر دیا جاوے تو اس کی پوری پوری اطاعت کرو۔مگر ساتھ ہی یہ حکم تھا کہ اگر امیر کوئی ایسا حکم دے جو خدا اور اس کے رسول کے حکم کے صریح خلاف ہو تو اس معاملہ میں اس کی اطاعت نہ کرو مگر اس حال میں بھی اس کا ادب ضرور ملحوظ رکھو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ جب کسی غزوہ میں کسی چڑھائی پر چڑھتے تھے تو تکبیر کہتے جاتے تھے یعنی اللہ کی بڑائی بیان کرتے تھے اور جب کسی بلندی سے نیچے اترتے تھے تو تسبیح کہتے تھے یعنی اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے تھے۔۱۵ سفر میں صحابہ کو حکم ہوتا تھا کہ اس طرح پر پڑاؤ نہ ڈالا کریں کہ لوگوں کے لئے موجب تکلیف ہو نیز حکم تھا کہ کوچ کے وقت اس طرح نہ چلا کرو کہ راستہ رک جاوے اور اس میں یہاں تک سختی فرماتے تھے کہ ایک دفعہ اعلان فرمایا کہ جو شخص پڑاؤ اور رستے میں دوسروں کا خیال نہیں رکھے گا وہ جہاد کے ثواب سے محروم رہے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب دشمن کے سامنے ہوتے تھے تو پہلے ہمیشہ دعا فرمایا کرتے تھے۔لڑائی کے لئے آپ صبح کا وقت پسند فرمایا کرتے تھے اور جب دھوپ تیز ہو جاتی تھی تو رک جاتے تھے اور پھر دو پہر گزار کرلڑائی کا حکم دیتے تھے۔کے -17 -12 -۱۸ لڑائی سے قبل آپ خود صحابہ کی صف آرائی فرمایا کرتے تھے اور صفوں میں بے ترتیبی کو بہت نا پسند فرماتے تھے۔: مسلم : ابوداؤد : ابوداؤ دوترندی