سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 334 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 334

۳۳۴ ہاتھ فتح ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ایک فاتح کی حیثیت میں مکہ میں داخل ہوئے اس وقت گو بعض لوگ قریش مکہ میں سے اپنی مرضی سے مسلمان ہو گئے تھے لیکن بہت سے قریش کفر پر قائم رہے اور ان سے قطعاً کوئی تعرض نہیں کیا گیا۔اور پھر آہستہ آہستہ جوں جوں ان لوگوں کو اسلام کے متعلق شرح صدر ہوتا گیا اور وہ اپنی مرضی سے مسلمان ہوتے گئے ایسے لوگوں کی تعداد سینکڑوں بلکہ شاید ہزاروں تھی۔چنانچہ صفوان بن امیہ جو کہ ملکہ کے رئیس امیہ بن خلف کا لڑکا تھا اور اسلام کا سخت دشمن تھاوہ بھی فتح مکہ کے موقع پر مسلمان نہیں ہوا اور کفر کی حالت میں ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو کر غزوہ حنین میں شریک ہوا جس میں اور بھی بہت سے مشرک شریک ہوئے تھے لیکن پھر آہستہ آہستہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسنِ اخلاق سے اس پر اسلام کی حقانیت کھلتی گئی اور بالآخر وہ خود بشرح صدر مسلمان ہو گیا۔اب سوال یہ ہے کہ اگر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ لوگوں کو جبراً مسلمان بناتے تھے تو فتح مکہ کے بعد جبکہ قریش کی طاقت بالکل ٹوٹ چکی تھی اور اسلامی لشکر مکہ پر قابض تھا اس وقت مکہ والوں کو کیوں نہ جبراً اسلام میں داخل کیا گیا۔فتح مکہ سے بہتر مسلمانوں کے لئے اسلام کی جبری اشاعت کا کون سا موقع ہوسکتا تھا جبکہ تلوار کے ذرا سے اشارے سے ایک بہت بڑی جماعت اسلام میں داخل کی جاسکتی تھی لیکن چونکہ اسلام مذہبی آزادی کا پیغام لے کر آیا تھا اور حکم تھا کہ دین کے معاملہ میں قطعا کوئی جبر نہیں ہونا چاہئے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے کمال دیانت داری کے ساتھ ہر ایک شخص کو اس کے ضمیر پر آزاد چھوڑ دیا کہ جس مذہب پر کوئی چاہے رہے۔لیکن اسلام کوئی ایسا مذہب نہیں تھا کہ مشرکین عرب اس کے متعلق ٹھنڈے طور پر غور کرنے کا موقع پاتے اور پھر اپنے مذہب کے مقابلہ میں اس کی خوبیوں کے قائل نہ ہوتے۔چنانچہ لوہے کی تلوار نے نہیں بلکہ براہین وآیات کی تلوار نے اپنا کام کیا اور ایک نہایت قلیل عرصہ میں مکہ کی سرزمین شرک کے عصر سے پاک تھی۔وجوہات جنگ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو کن حالات میں اور کن لوگوں کے خلاف جہاد بالسیف کی اجازت دی گئی اور اس کی کیا وجوہات تھیں اس سوال کے جواب میں ہمیں اپنے پاس سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے، تاریخ کے واقعات واضح ہیں اور ایک ادنی عقل کا آدمی بھی ان کے مطالعہ سے صحیح نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے بشرطیکہ اس کی آنکھوں پر تعصب کی پٹی نہ ہو۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی میں جو جو مظالم قریش نے مسلمانوں پر کئے اور جوجو : اصابه اسدالغابہ واستيعاب