سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 333
۳۳۳ قریش کے ساتھ مسلمانوں کی پہلی لڑائی رمضان ۲ ہجری میں بدر کے موقع پر ہوئی جہاں مسلمان کچھ اوپر تین سو تھے۔دوسری لڑائی شوال ۳ ہجری میں احد کے موقع پر ہوئی جہاں مسلمانوں کی تعداد سات سو تھی۔تیسری لڑائی شوال ۵ ہجری میں ہوئی جو غزوہ احزاب یا غزوہ خندق کے نام سے مشہور ہے اس میں مسلمانوں کی تعداد تین ہزار تھی۔مگر یہ یا درکھنا چاہئے کہ یہ لڑائی چونکہ مدینہ میں ہوئی تھی اس لئے اس میں مسلمان زیادہ کثرت کے ساتھ شامل ہو سکے تھے وَإِلَّا اگر دور کا سفر ہوتا تو غالبا اس زمانہ میں اس کثرت کے ساتھ مسلمان شامل نہ ہو سکتے کیونکہ کمزور اور ضعیف اور غریب لوگ کثرت سے رہ جاتے۔بہر حال اس جنگ میں تین ہزار مسلمان شریک ہوئے۔اس کے بعد ذ و قعدہ ۶ ہجری میں غزوہ صلح حدیبیہ وقوع میں آیا اور اس میں ڈیڑھ ہزار مسلمان شامل ہوئے۔گویا اس چار پانچ سالہ جنگی زمانہ کے آخری غزوہ میں مسلمانوں کی تعداد تین سو سے لے کر ڈیڑھ ہزار تک پہنچی تھی اور اگر غزوہ خندق کی تعداد پر بنیادرکھیں تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ تعداد تین ہزار تک پہنچی تھی۔اس کے بعد صلح کا زمانہ شروع ہوا اور قریباً پونے دو سال تک صلح رہی لیکن اس صلح کے زمانہ میں جس غیر معمولی سرعت سے اسلام کی ترقی ہوئی وہ اس تعداد سے معلوم کی جاسکتی ہے جو غزوہ فتح مکہ کے موقع پر جو رمضان ۸ ہجری میں ہوا مسلمانوں کی تھی۔مؤرخین کا اتفاق ہے کہ اس غزوہ میں اسلامی لشکر کی تعداد دس ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔گویا چار پانچ سالہ جنگ کے زمانہ میں قابل جہاد مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار یا زیادہ سے زیادہ تین ہزار تک پہنچی تھی اور پونے دو سالہ امن کے زمانہ میں یہ تعداد دس ہزار کو پہنچ گئی اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ لڑائیاں اسلام کی جبری اشاعت کی غرض سے نہ تھیں بلکہ دراصل یہ جنگ اسلام کی ترقی میں ایک روک تھی کیونکہ جو نہی یہ جنگ ختم ہوئی اسلام سرعت کے ساتھ پھیلنا شروع ہو گیا۔دراصل جنگ کی حالت میں کئی لوگ اسلام کی طرف توجہ نہیں کر سکتے تھے اور کئی کمزور طبیعت لوگ کفار کی مخالفت سے بھی ڈرتے تھے اور مسلمانوں کو بھی جنگ کی مصروفیت کی وجہ سے اصل تبلیغ کا موقع بہت کم ملتا تھا، لیکن جب جنگ رک گئی تو ایک طرف لوگوں کو اسلام کے متعلق غور کرنے کا موقع مل گیا اور کمز ور طبائع کا خوف جاتا رہا اور دوسری طرف تبلیغ کی سرگرمی زیادہ ہوگئی اور اس کا نتیجہ جو کچھ ہوا وہ ہمارے سامنے ہے۔ایک اور دلیل اس بات کی کہ تح مکہ کے موقع پر سینکڑوں کار اسلام سے منکر ہے ان حضرت صلی الہ علیہ وسلمکی ہے لڑائیاں اسلام کی جبری اشاعت کے لئے نہیں تھیں یہ ہے کہ غزوہ مکہ کے موقع پر جب مکہ مسلمانوں کے