سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 313
۳۱۳ اور دوسری طرف یہود کے عمائد کو جمع کر کے ان کے سامنے اس ضرورت کو بیان کیا کہ مدینہ کی مختلف اقوام کے درمیان ایک باہمی معاہدہ ہو جانا چاہئے جس کے ماتحت آئندہ شہر کے امن اور اس کے مختلف الاقوام باشندوں کی حفاظت اور بہبودی کا انتظام ہو سکے اور کوئی صورت جھگڑے اور امن شکنی کی پیدا نہ ہو۔چنانچہ پہلے تو آپ نے مسلمانوں اوس اور خزرج کے اندرونی نظم ونسق کے متعلق چند قواعد فیصلہ فرمائے اور پھر اتفاق رائے سے یہود کے ساتھ ایک معاہدہ طے فرمایا جو با ضابطہ ضبط تحریر میں لایا گیا۔یہ معاہدہ جس کی طرف احادیث اور قرآن شریف میں بھی اشارہ آتا ہے پوری تفصیل کے ساتھ تاریخ میں درج ہے اور اس جگہ ہم اس کی موٹی موٹی شرطیں اپنے الفاظ میں ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔مسلمان اور یہودی آپس میں ہمدردی اور اخلاص کے ساتھ رہیں گے اور ایک دوسرے کے خلاف -1 - زیادتی یا ظلم سے کام نہیں لیں گے۔ہر قوم کو مذہبی آزادی حاصل ہوگی۔تمام باشندگان کی جانیں اور اموال محفوظ ہوں گے اور ان کا احترام کیا جائے گا۔سوائے اس کے کہ کوئی شخص ظلم یا جرم کا مرتکب ہو۔ہر قسم کے اختلاف اور تنازعات رسول اللہ کے سامنے فیصلہ کے لئے پیش ہوں گے اور ہر فیصلہ خدائی حکم (یعنی ہر قوم کی اپنی شریعت ) کے مطابق کیا جائے گا۔-۵- کوئی فریق بغیر اجازت رسول اللہ جنگ کے لئے نہیں نکلے گا۔اگر یہودیوں یا مسلمانوں کے خلاف کوئی قوم جنگ کرے گی تو وہ ایک دوسرے کی امداد میں کھڑے ہوں گے۔- ے۔اسی طرح اگر مدینہ پر کوئی حملہ ہوگا تو سب مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔قریش مکہ اور ان کے معاونین کو یہود کی طرف سے کسی قسم کی امداد یا پناہ نہیں دی جائے گی۔-^ -9 - 1+ ہر قوم اپنے اپنے اخراجات خود برداشت کرے گی۔اس معاہدہ کی رو سے کوئی ظالم یا آئم یا مفسد اس بات سے محفوظ نہیں ہوگا کہ اسے سزادی جاوے یا اس سے انتقام لیا جاوے لے اس معاہدہ کی رو سے مسلمانوں اور یہودیوں کے باہمی تعلقات منضبط ہو گئے اور مدینہ میں ایک قسم لے: سیرۃ ابن ہشام جلد اصفحه ۱۷۹،۱۷۸