سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 312
۳۱۲ اسلام اور بانی اسلام کے خلاف خفیہ کاروائیاں کرتے رہتے تھے نیز ایسے لوگ بھی اسی گروہ میں شامل سمجھے جاتے تھے جو ویسے تو ایمان لے آئے تھے مگر ان کی عملی حالت عموماً غیر مومنانہ تھی اور غیروں کے ساتھ ان کے تعلقات بھی اسی طرح قائم تھے۔سوم: بت پرست یعنی اوس وخزرج کے وہ لوگ جو ابھی تک شرک پر قائم تھے۔چہارم : یہود جو قبائل بنو قینقاع، بنونضیر اور بنو قریظہ میں منقسم تھے۔ان چار فرقوں میں سے پہلے فرقہ کی دونوں شاخیں پورے طور پر ایک نقطہ پر جمع تھیں کیونکہ ہرامر میں ان کی آنکھیں ایک ہی وجود کی طرف اٹھتی تھیں اور گو عادات واطوار میں ان کا رنگ ڈھنگ مختلف تھا اور عرب کے قدیم دستور اور رسم ورواج کے مطابق ان کا ایک نقطہ پر جمع ہونا آسان کام نہ تھا، لیکن اسلام کی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مقناطیسی شخصیت نے دوسرے سب جذبات کو دبا دیا تھا۔دوسرا گروہ جو منافقین کا تھا وہ ایک نہایت خطرناک گروہ تھا۔یہ لوگ ظاہر میں مسلمان تھے مگر دل میں اسلام کے سخت دشمن تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بغض اور حسد کی آگ سے جلے جاتے تھے۔ان کی خفیہ ریشہ دوانیوں اور مخفی شرارتوں نے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کئی موقعوں پر نہایت خطرناک حالات پیدا کر دئے مگر چونکہ یہ لوگ بظاہر مسلمان کہلاتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین میں اپنے آپ کو شمار کرتے تھے، اس لئے انہیں بہر حال مسلمانوں کے ساتھ مل کر رہنا پڑتا تھا۔اور وہ اس بات پر مجبور تھے کہ کم از کم ظاہری طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت کو اپنے اوپر تسلیم کریں۔تیسرا گروہ ، بت پرستوں کا تھا۔یہ لوگ ہجرت کے وقت تک تو کافی تعداد میں تھے مگر اس کے بعد ان کی تعداد جلد جلد کم ہوتی گئی اور تھوڑے عرصہ میں ہی مدینہ کا شہر شرک کے عنصر سے بالکل پاک ہو گیا۔یہ لوگ گومذ ہباً مسلمان نہ تھے لیکن عرب کے تمدن کے ماتحت وہ اس بات کی ضرورت محسوس کرتے تھے کہ اپنے کثیر التعداد مسلمان بھائیوں کے ساتھ مل کر رہیں۔پس سیاسی طور پر یہ گروہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے تھا اور آپ کی حکومت کو تسلیم کرتا تھا مگر چوتھا گر وہ جو یہود پر مشتمل تھا وہ ہر طرح آزاد اور خود مختار تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دور اندیش طبیعت سے یہ بعید تھا کہ آپ ایسے حالات میں جبکہ شہر کا امن اور مسلمانوں کے جان و مال معرض خطر میں تھے اور پھر قریش کی عداوت کی وجہ سے اسلام کی موت اور زندگی کا سوال سامنے تھا ان یہود کو مدینہ میں بغیر کسی معاہدہ کے چھوڑ دیتے۔چنانچہ ابھی ہجرت پر بہت تھوڑا عرصہ ہی گزرا تھا کہ آپ نے ایک طرف مہاجرین اور اوس وخزرج