سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 268 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 268

۲۶۸ پر وہ ٹھہر گئے اور میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر اُن کے پاس پہنچا۔اس سرگذشت کی وجہ سے جو میرے ساتھ گذری تھی میں نے یہ سمجھا کہ اس شخص کا ستارہ اقبال پر ہے اور یہ کہ بالآ خرآ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غالب رہیں گے؛ چنانچہ میں نے صلح کے رنگ میں ان سے کہا کہ آپ کی قوم نے آپ کو قتل کرنے یا پکڑ لانے کے لیے اس اس قدر انعام مقرر کر رکھا ہے اور لوگ آپ کے متعلق یہ یہ ارادہ رکھتے ہیں اور میں بھی اسی ارادے سے آیا تھا مگر اب میں واپس جاتا ہوں۔اس کے بعد میں نے انہیں کچھ زاد راہ پیش کیا مگر انہوں نے نہیں لیا اور نہ ہی مجھ سے کوئی اور سوال کیا۔صرف اس قدر کہا کہ ہمارے متعلق کسی سے ذکر نہ کرنا۔اس کے بعد میں نے ( یہ یقین کرتے ہوئے کہ کسی دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملک میں غلبہ حاصل ہو کر رہے گا ) آپ سے عرض کیا کہ مجھے ایک امن کی تحریر لکھ دیں۔جس پر آپ نے عامر بن فہیرہ کو ارشاد فرمایا اور اُس نے مجھے ایک چمڑے کے ٹکڑے پر امن کی تحریرلکھ دی۔اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی آگے روانہ ہو گئے۔جب سراقہ واپس لوٹنے لگا تو آپ نے اُسے فرمایا۔سراقہ اُس وقت تیرا کیا حال ہو گا۔جب تیرے ہاتھوں میں کسری کے کنگن ہوں گے ؟ سراقہ نے حیران ہو کر پوچھا کہ کسری بن ہرمز شہنشاہ ایران ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔سراقہ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔کہاں عرب کے صحرا کا ایک بدوی اور کہاں کسر کی شہنشاہ ایران کے کنگن ! مگر قدرت حق کا تماشا دیکھو کہ جب حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ایران فتح ہوا اور کسریٰ کا خزانہ غنیمت میں مسلمانوں کے ہاتھ آیا تو کسریٰ کے کنگن بھی غنیمت کے مال کے ساتھ مدینہ میں آئے۔حضرت عمرؓ نے سراقہ کو بلایا جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہو چکا تھا اور اپنے سامنے اس کے ہاتھوں میں کسری کے کنگن جو بیش قیمت جواہرات سے لدے ہوئے تھے پہنائے۔سراقہ کے تعاقب سے رہائی ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے۔راستہ میں زبیر بن العوام سے ملاقات ہوگئی جو شام سے تجارت کر کے مسلمانوں کے ایک چھوٹے سے قافلے کے ساتھ مکہ کو واپس جارہے تھے۔زبیر نے ایک جوڑا سفید کپڑوں کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ایک حضرت ابو بکر کی نذر کیا اور کہا میں بھی مکہ سے ہو کر بہت جلد آپ سے مدینہ میں آملوں گا۔اور بھی کئی لوگ راستہ لے : یہ ایک عجیب بات ہے کہ ایسے نازک اور بے سرو سامانی کے وقت میں بھی لکھنے کا سامان ساتھ ہوتا تھا۔: بخاری باب الہجرت سے : یہ نظارہ غالباً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی وقت کشفی حالت میں دکھایا گیا ہوگا۔: اسدالغابہ ذکر سراقہ ه : بخاری باب الحجرت