سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 267 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 267

۲۶۷ یہ تعاقب کرنے والا سراقہ بن مالک تھا جو اپنے تعاقب کا قصہ خود اپنے الفاظ میں یوں بیان کرتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکل گئے تو کفار قریش نے یہ اعلان کیا کہ جو کوئی بھی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) یا ابوبکر کو زندہ یا مردہ پکڑ کر لائے گا اسے اس اس قد را انعام دیا جائے گا اور اس اعلان کی انہوں نے اپنے پیغام رسانوں کے ذریعہ سے ہمیں بھی اطلاع دی۔اس کے بعد ایک دن میں اپنی قوم بنو مدلج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ قریش کے ان آدمیوں میں سے ایک شخص ہمارے پاس آیا اور مجھے مخاطب کر کے کہنے لگا کہ میں نے ابھی ابھی ساحل سمندر کی سمت میں دور سے کچھ شکلیں دیکھی ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ شاید وہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اور اس کے ساتھی ہوں گے۔سراقہ کہتا ہے کہ میں فوراً سمجھ گیا کہ یہ ضرور وہی ہوں گے مگر میں نے اُسے ٹالنے کے لیے (اور یہ فخر خود حاصل کرنے کی غرض سے ) کہا کہ یہ تو فلاں فلاں لوگ ہیں جو ابھی ہمارے سامنے سے گذرے ہیں۔اس کے تھوڑی دیر کے بعد میں اس مجلس سے اٹھا اور اپنے گھر آ کر اپنی خادمہ سے کہا کہ میرا گھوڑا تیار کر کے گھر کے پچھواڑے میں کھڑا کر دے اور پھر میں نے ایک نیزہ لیا اور گھر کی پشت کی طرف سے ہو کر چپکے سے نکل گیا اور گھوڑے کو تیز کر کے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اور ان کے ساتھیوں کے قریب پہنچ گیا۔اس وقت میرے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور میں زمین پر گر گیا لیکن میں جلدی سے اُٹھا اور اپنا ترکش نکال کر میں نے ( ملک کے دستور کے مطابق ) تیروں سے فال لی۔فال میرے منشا کے خلاف نکلی مگر ( اسلام کی عداوت کا جوش اور انعام کا لالچ تھا ) میں نے فال کی پروا نہ کی اور پھر سوار ہو کر تعاقب میں ہو لیا اور اس دفعہ اس قدر قریب پہنچ گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ( جو اس وقت قرآن شریف کی تلاوت کرتے جارہے تھے ) قراءت کی آواز مجھے سنائی دیتی تھی۔اس وقت میں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایک دفعہ بھی منہ موڑ کر پیچھے کی طرف نہیں دیکھا۔لیکن ابوبکر ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فکر کی وجہ سے ) بار بار دیکھتے تھے۔میں جب ذرا آگے بڑھا تو میرے گھوڑے نے پھر ٹھوکر کھائی اور اس دفعہ اس کے پاؤں ریت کے اندر جنس گئے اور میں پھر زمین پر آ رہا۔میں نے اُٹھ کر گھوڑے کو جود دیکھا تو اس کے پاؤں زمین میں اس قدر ھنس چکے تھے کہ وہ انہیں زمین سے نکال نہیں سکتا تھا۔آخر بڑی مشکل سے وہ اٹھا اور اس کی اس کوشش سے میرے ارد گر دسب غبار ہی غبار ہو گیا۔اس وقت میں نے پھر فال لی اور پھر وہی فال نکلی۔جس پر میں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو صلح کی آواز دی۔اس آواز لے : شاخ بنو کنانہ