سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 180 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 180

۱۸۰ عبداللہ اس وقت بالکل بچہ تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اُنہوں نے بہت بڑا رتبہ حاصل کیا اور اسلام کے چوٹی کے علماء میں سے سمجھے جانے لگے۔جب قریش نے دیکھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قریش کے ایک وفد سے ملاقات رض کہ حضرت حمزہ اور حضرت عمر جیسے ذی مقدرت لوگ بھی اسلام میں داخل ہوتے جاتے ہیں تو انہیں بہت فکر دامنگیر ہوا اور اُنہوں نے باہم مشورہ کر کے پہلے تو عتبہ بن ربیعہ کو آپ کے پاس بھیجا تا کہ وہ کسی طرح آپ کو راضی کر کے اشاعت اسلام سے باز رکھنے کی کوشش کرے لیکن جب عتبہ کو اس مشن میں نا کامی ہوئی بلکہ قریش نے دیکھا کہ الٹا عتبہ آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے متاثر اور مرعوب ہو کر واپس آیا ہے۔لے تو انہوں نے ایک دن کعبہ کے پاس جمع ہو کر باہم مشورہ کیا اور یہ تجویز کی کہ چند رؤسا اکٹھے ہو کر آپ کے ساتھ بات کریں ؛ چنانچہ اس تجویز کے مطابق ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل اور ابو جہل اور امیہ بن خلف اور عتبہ اور شیبہ اور ابوسفیان اور اسود بن مطلب اور نضر بن حارث اور ابو البختری وغیرہ صحن کعبہ میں مجلس جما کر بیٹھ گئے اور ایک آدمی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام دے کر روانہ کیا گیا کہ تمہاری قوم کے رؤساء تم سے کچھ بات کرنا چاہتے ہیں۔تم ذرا صحن کعبہ میں آکر اُن کی بات سن جاؤ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو ایسے موقعوں کی تلاش میں خود رہتے تھے، فوراً تشریف لے گئے اور رسمی علیک سلیک کے بعد قریش نے یوں گفتگو شروع کی کہ " اے محمد ! دیکھو تمہاری وجہ سے قوم میں کتنا اختلاف وانشقاق پیدا ہو رہا ہے۔تم نے اپنے آبا و اجداد کے مذہب میں رخنہ ڈال کر اپنی قوم کے بزرگوں کو بُرا بھلا کہا۔ان کے قابل تکریم معبودوں کو گالیاں دیں اور ان کے ذی عزت بزرگوں کو لا یعقل قرار دیا۔اس سے بڑھ کر کسی قوم کی ہتک اور ذلت کیا ہو سکتی ہے جو تم نے کی ہے اور کر رہے ہو مگر ہم تمہارے معاملہ میں حیران ہیں کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔اگر تو تمہاری یہ ساری جد و جہد اس غرض سے ہے کہ تم اس ذریعہ سے مال جمع کر کے مالدار بن جاؤ تو ہم تمہیں اتنا مال جمع کئے دیتے ہیں کہ تم ہم سب سے زیادہ دولتمند کہلاسکو۔اگر جاہ وعزت کی طلب ہے تو ہم تمہیں اپنا سردار اور رئیس بنا لینے کے لئے تیار ہیں۔اگر حکومت کی حرص ہے تو ہمیں اس میں بھی تامل نہیں کہ تمہیں اپنا بادشاہ قرار دے لیں اور اگر تمہارا یہ شور وشغب کسی بیماری یا آسیب کا نتیجہ ہے تو ہم اپنے پاس سے خرچ کر کے تمہارے علاج کا انتظام کر سکتے ہیں اور اگر تم کسی اچھی سی لڑکی سے شادی کر لے : ابن ہشام وطبری