سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 163 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 163

۱۶۳ رُکنے لگ گیا۔حضرت ابو بکر کو علم ہوا تو وہ دوڑے آئے اور آپ کو اس بد بخت کے شر سے بچایا اور قریش سے مخاطب ہو کر کہا : اتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ 166 کیا تم ایک شخص کو صرف اس لیے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میر ارب خدا ہے۔“۔ایک اور موقع پر آپ نے صحن کعبہ میں توحید کا اعلان کیا تو قریش جوش میں آ کر آپ کے اردگرد اکٹھے ہو گئے اور ایک ہنگامہ برپا کر دیا۔آپ کے ربیب یعنی حضرت خدیجہ کے فرزند حارث بن ابی ہالہ کو اطلاع ہوئی تو وہ بھاگے آئے اور خطرہ کی صورت پا کر آپ کو قریش کی شرارت سے بچانا چاہا۔مگر اس وقت بعض نوجوانان قریش کے اشتعال کی یہ کیفیت تھی کہ کسی بد باطن نے تلوار چلا کر حارث کو وہیں ڈھیر کر دیا۔اور اس وقت کے شور و شغب میں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ تلوار چلانے والا کون تھا۔ان مصائب پر مسلمانوں کو صبر کی تلقین الغرض یہ وقت اسلام اور اہل اسلام کے لئے سخت نازک وقت تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی کسی ذاتی تکلیف کی تو پروا نہیں تھی مگر مسلمانوں اور خصوصاً کمزور مسلمانوں کے مصائب کی وجہ سے آپ ضرور فکرمند تھے ،مگر دوسری طرف آپ اس بات کو بھی خوب جانتے اور سمجھتے تھے کہ قومیں مصائب میں سے گذر کر ہی بنا کرتی ہیں۔اس لئے آپ ایک جہت سے ان مصائب کو مسلمانوں کی تربیت کا بھی ذریعہ سمجھتے تھے اور اپنے صحابہ کوصبر ومحل کی تعلیم دیتے اور گذشتہ انبیاء کے متبعین کی تکالیف کا ذکر کر کے ان کو بتاتے تھے کہ قدیم سے یہی سنت چلی آئی ہے کہ اللہ کے رسولوں اور اُن کے متبعین کو دکھ دیئے جاتے ہیں، لیکن آخر کار مومنوں کی فتح ہوتی ہے، چنانچہ روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے پاس ٹیک لگائے بیٹھے تھے خباب بن الارت اور بعض دوسرے صحابہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! مسلمانوں کو قریش کے ہاتھ سے اتنی تکالیف پہنچ رہی ہیں آپ ان کے لئے بد دعا کیوں نہیں کرتے ؟ آپ یہ الفاظ سنتے ہی اُٹھ کر بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا: دیکھو تم سے پہلے وہ لوگ گزرے ہیں جن کا گوشت لو ہے کے کانٹوں سے نوچ نوچ کر ہڈیوں تک صاف کر دیا گیا مگر وہ اپنے دین سے متزلزل نہیں ہوئے اور وہ لوگ گزرے ہیں جن کے سروں پر آرے چلا کر ان کو دوٹکڑے کر دیا گیا مگر ان کے قدموں میں لغزش نہیں آئی۔دیکھو خدا بخاری باب مالقى النبي صلعم ے : اصابہ ذکر حارث