سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 138
۱۳۸ مؤرخین میں اختلاف ہے۔بعض حضرت ابو بکر عبداللہ بن ابی قحافہ کا نام لیتے ہیں۔بعض حضرت علی کا جن کی عمر اس وقت صرف دس سال کی تھی اور بعض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ کا۔مگر ہمارے نزدیک یہ جھگڑا فضول ہے۔حضرت علی اور زید بن حارثہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے آدمی تھے اور آپ کے بچوں کی طرح آپ کے ساتھ رہتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا تھا اور ان کا ایمان لانا بلکہ ان کی طرف سے تو شاید کسی قولی اقرار کی بھی ضرورت نہ تھی۔پس ان کا نام بیچ میں لانے کی ضرورت نہیں اور جو باقی رہے ان سب میں سے حضرت ابوبکر مسلمہ طور پر مقدم اور سابق بالایمان تھے؛ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درباری شاعرحستان بن ثابت انصاری حضرت ابو بکر کے متعلق کہتے ہیں۔إِذَا تَذَكَّرُتَ شَجُوا مِنْ أَخِي ثِقَةٍ فَاذْكُرُ أَخَاكَ أَبَا بَكْرٍ بِمَا فَعَلَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ أَتْقَاهَا وَأَعْدَلَهَا بَعْـدَا النَّبِيِّ وَ أَوْفَاهَا بِمَا حَمَلَا الثَّانِي التَّالِيُّ الْمَحْمُودَ مَشْهَدَهُ وَأَوَّلَ النَّاسِ مِنْهُمْ صَدَّقَ الرُّسُلَا یعنی ” جب تمہارے دل میں کبھی کوئی درد آمیز یاد تمہارے کسی اچھے بھائی کے متعلق پیدا ہوتو اس وقت اپنے بھائی ابو بکر کو بھی یاد کر لیا کرو۔اس کی ان خوبیوں کی وجہ سے جو یادرکھنے کے قابل ہیں۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب لوگوں میں سے زیادہ متقی اور سب سے زیادہ منصف مزاج تھا اور وہ سب سے زیادہ پورا کرنے والا تھا اپنی اُن ذمہ داریوں کو جو اس نے اٹھا ئیں۔ہاں ابو بکر وہی تو ہے جو غار ثور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دوسرا شخص تھا جس نے اپنے آپ کو آپ کی اتباع میں بالکل محو کر رکھا تھا اور وہ جس کام میں بھی ہاتھ ڈالتا تھا اسے خوبصورت بنا دیتا تھا اور وہ ان سب لوگوں میں سے پہلا تھا جو رسول پر ایمان لائے ہے حضرت ابو بکر اپنی شرافت اور قابلیت کی وجہ سے قریش میں بہت مکرم و معزز تھے اور اسلام میں تو ان کو وہ رتبہ حاصل ہوا جو کسی اور صحابی کو حاصل نہیں۔حضرت ابو بکر نے ایک لمحہ کے لیے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوئی میں شک نہیں کیا بلکہ سنتے ہی قبول کیا اور پھر انہوں نے اپنی ساری توجہ اور اپنی جان اور مال کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی خدمت میں وقف کر دیا۔: طبری