سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 131
۱۳۱ سُنا کہ نعوذ باللہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جھوٹا ہے تو بے اختیار ہو کر بولا : قَدْ كَانَ مُحَمَّدٌ فِيْكُمْ غُلَا مَا حَدَثًا اَرْضَاكُمْ فِيْكُمْ وَاَصْدَقُكُمْ حَدِيثًا وَأَعْظَمُكُمُ اَمَانَةٌ حَتَّى إِذَا رَتَيْتُمُ فِى صُدْغَيْهِ الشَّيْبَ وَ جَاءَ كُمْ بِمَا جَاءَ كُمْ بِهِ قُلْتُم سَاحِرٌ لَا وَاللَّهِ مَا هُوَ بِسَاحِرٍ د یعنی محمد تم میں ہی ایک چھوٹا سا بچہ ہوتا تھا اور وہ تم سب میں سے زیادہ پسندیدہ اخلاق والا تھا اور سب سے زیادہ راست گو تھا اور سب سے زیادہ امین تھا اور اس کے متعلق تمہاری یہی رائے رہی۔حتی کہ جب تم نے اس کی زلفوں میں سفیدی دیکھی اور وہ بڑھاپے کو پہنچا اور وہ تمہارے پاس وہ کچھ لایا جو کہ وہ لایا تو تم یہ کہنے لگے کہ وہ ساحر ہے اور جھوٹا ہے۔خدا کی قسم وہ جھوٹا اور ساحر تو ہر گز نہیں۔“ اس سے انظر بن الحارث کی بھی وہی مرا تھی جو ابو جہل نے کہا کہ ہم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو جھوٹا نہیں کہتے بلکہ اس کے لائے ہوئے دین کو جھوٹا کہتے ہیں۔پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتِ اسلام شروع کی اور ایک پہاڑی پر چڑھ کر قریش کو جمع کیا اور اُن سے کہا کہ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑی کی پچھلی وادی میں ایک بڑ الشکر جمع ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات مان لو گے؟ تو با وجود اس کے کہ بظاہر یہ بات بالکل بعید از امکان تھی۔سب نے کہا: نَعَمُ مَا جَرَّ بُنَا عَلَيْكَ إِلَّا صِدْقًا ”ہاں! ہم مانیں گے کیونکہ ہم نے تجھ کو ہمیشہ صادق پایا ہے۔“ آپ نے فرمایا: تو پھر میں تم کو بتاتا ہوں کہ اللہ کا عذاب تمہارے قریب آ رہا ہے جس سے اپنے بچاؤ کا سامان کرلو۔“ یہ سب شہادتیں اشد ترین دشمنوں کی ہیں اور مومنوں کی طرف سے تو کسی شہادت کی ضرورت نہیں کیونکہ اُن کا ایمان لانا ہی ایک زبر دست مجسم شہادت ہے۔لیکن میں اس موقع پر آپ کی زوجہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی شہادت درج کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہلی دفعہ ا : شفا قاضی عیاض و ابن ہشام : بخاری و مسلم