سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 113
۱۱۳ نسبتاً ایک امیر آدمی تھے۔اس موقع پر یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ عبدالمطلب کی زندگی تک تو بنو ہاشم نہایت معزز ومکرم تھے اور گویا تمام قبائل قریش میں ممتاز حیثیت رکھتے تھے لیکن ان کی وفات کے بعد بنو ہاشم میں سے کوئی ایسا شخص نہ نکلا جو اس اعزاز کو قائم رکھ سکے اس لیے قریش کی عام سرداری ان کے ہاتھ سے نکل گئی اور بنو ہاشم کے رقیب بنوامیہ آہستہ آہستہ بہت زور پکڑ گئے۔ابوطالب کی کفالت ابو طالب نے اپنے والد کی وصیت پر نہایت دیانت اور خوبی سے عمل کیا اور اپنے بچوں سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عزیز رکھا۔ہر وقت اپنی آنکھوں کے سامنے رکھتے تھے اور رات کے وقت بھی عموماً اپنے ساتھ ہی سلاتے تھے۔جب آپ کی عمر بارہ سال کی ہوئی تو ابو طالب کو ایک تجارتی قافلہ سفر شام اور واقعہ بحیرا راہب کے ساتھ شام کا سفر پیش آ گیا۔چونکہ سفر لمبا اور کٹھن تھا اس لیے انہوں نے ارادہ کیا کہ آپ کو مکہ ہی میں چھوڑ جائیں۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو طالب کی جدائی نہایت شاق تھی۔چنانچہ روانگی کے وقت جوش محبت میں آپ ابو طالب سے لپٹ گئے اور رونے لگے۔یہ حالت دیکھ کر ابو طالب کا دل بھر آیا اور وہ آپ کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔شام کے جنوب میں بھر کی ایک مشہور مقام ہے، وہاں پہنچے تو ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔وہاں ایک عیسائی راہب رہتا تھا جس کا نام بھیرا تھا۔جب قریش کا قافلہ اُس کی خانقاہ کے پاس پہنچا تو اس راہب نے دیکھا کہ تمام پتھر اور درخت وغیرہ یکلخت سجدہ میں گر گئے۔اُسے معلوم تھا کہ الہی نوشتوں کی رُو سے ایک نبی مبعوث ہونے والا ہے اس لیے اُس نے اپنی فراست سے سمجھ لیا کہ اس قافلے میں وہی نبی موجود ہو گا۔چنانچہ اُس نے اپنے قیافہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیا اور اس سے ابو طالب کو اطلاع دی اور ابو طالب کو نصیحت کی کہ آپ کو اہلِ کتاب کے شر سے محفوظ رکھیں۔علیم روایت کی رُو سے اس واقعہ کی سند کمزور ہے لیکن اگر فی الحقیقت ایسا واقعہ گذرا ہو تو کچھ تعجب بھی نہیں۔درختوں وغیرہ کا سجدہ کرنا راہب کا ایک کشفی نظارہ سمجھا جائے گا جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے لحاظ سے کوئی غیر معمولی بات نہیں۔کیا اسلام مسیحیت سے متاثر ہوا ہے؟ اس جگہ یہ ذکر ضروری ہے کہ میور صاحب اور بعض دوسرے غیر مسلم مؤرخین نے بحیرا راہب کے واقعہ اور