سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 93
۹۳ قریش قریش اس قبیلہ کا نام ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے اور جو اس زمانہ میں مکہ میں آباد تھا۔یہ قبیلہ عرب کی متفقہ روایات کی رُو سے حضرت اسمعیل کی اولاد سے ہے اور عدنانی قبائل کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے۔قبیلہ قریش کے بانی کے متعلق روایات مختلف ہیں۔بعض روایات میں نضر بن کنانہ کو اس کا بانی قرار دیا گیا ہے اور بعض میں فہر بن مالک کو۔مگر یہ اختلاف عملاً واقعات پر کوئی اثر نہیں ڈالتا کیونکہ نضر بن کنانہ کے ہاں مالک بن نضر کے سوا کوئی لڑکا نہیں ہوا جس کی نسل چلی ہوا اور اسی طرح مالک کے ہاں سوائے فہر کے کوئی لڑکا نہیں ہوا۔گویا نضر کی اولاد بھی عملاً وہی ہے جو فہر کی ہے۔قریش کی وجہ تسمیہ میں بھی اختلاف ہے۔بعض کا یہ خیال ہے کہ اس قبیلہ کو قریش کا نام ایک مچھلی کی مشابہت میں دیا گیا تھا جو بہت بڑی ہوتی ہے اور باقی مچھلیوں کو کھا جاتی ہے اور جسے عربی زبان میں قریش کہتے ہیں۔گویا اس لفظ میں قریش کی طاقت اور اقتدار کی طرف اشارہ تھا، لیکن دوسرا گر وہ یہ کہتا ہے کہ جب قصی نے کعبہ کی تولیت حاصل کرنے کے بعد اس قبیلہ کی مختلف شاخوں کو جمع کر کے مکہ میں آباد کیا تو اس وقت ان کا نام قریش ہوا۔کیونکہ عربی زبان میں قریش کے روٹ میں جمع کرنے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔قبیلہ قریش کی اندرونی شاخیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قریش کئی قبائل میں تقسیم ہو چکے تھے جن کا بعض اوقات آپس میں فساد بھی ہو جاتا تھا۔گو با قاعدہ لڑائی کی نوبت کبھی نہیں پہنچی۔ان قبائل میں سے بعض قبائل اور بعض مشہور افراد کا شجرہ درج ذیل ہے۔اس شجرہ میں جن ناموں کے ساتھ بنو کا لفظ لگایا گیا ہے وہ ایسے لوگوں کے نام ہیں جن کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مشہور قبائل قریش خاص طور پر منسوب ہوتے تھے اور جن کے ساتھ یہ لفظ درج نہیں وہ صرف مشہور افراد ہیں۔اور جو اسماء خطوط کے اندر درج ہیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے مشہور لوگوں کے نام ہیں۔ان میں سے مسلمانوں کے نام گول دائرہ میں دکھائے گئے ہیں اور کفار کے نام چوکور خطوط میں۔لیکن چونکہ اس شجرہ میں سب نام نہیں دکھائے گئے اس لئے ایک ہی لائن میں درج شدہ ناموں کے متعلق یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ وہ ایک ماں باپ کی اولاد ہیں بلکہ اس سے مراد صرف یہ ہے کہ وہ ایک ہی قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔(دیکھئے اگلا صفحہ ) لے : زرقانی جلد اصفحہ ۷۶ : ابن سعد و سهیلی وزرقانی