سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 77 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 77

77 گریہ وزاری اور سوز گداز سے یہ دعا فرمارہی ہیں کہ خدا یا اس پیشگوئی کو اپنے فضل اور اپنی قدرت نمائی سے پورا فرما۔جب وہ دعا سے فارغ ہوئیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم یہ دعا کر رہی تھی اور تم جانتی ہو کہ اس کے نتیجہ میں تم پر سوکن آتی ہے؟ حضرت اماں جان نے بے ساختہ فرمایا۔خواہ کچھ ہو مجھے اپنی تکلیف کی پرواہ نہیں۔میری خوشی اسی میں ہے کہ خدا کے منہ کی بات اور آپ کی پیشگوئی پوری ہو۔دوست سوچیں اور غور کریں کہ یہ کس شان کا ایمان اور کس بلند اخلاقی کا مظاہر اور کس تقویٰ کا مقام ہے کہ اپنی ذاتی راحت اور ذاتی خوشی کو کلیتہ قربان کر کے محض خدا کی رضا کو تلاش کیا جارہا ہے !!! پھر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہوئی (اور یہ میری آنکھوں کے سامنے کا واقعہ ہے) اور آپ کے آخری سانس تھے تو حضرت اماں جان نَوَّرَ اللهُ مَرْقَدَهَا وَرَفَعَهَا فِي أَعْلَى عِلَّتِین آپ کی چارپائی کے قریب فرش پر آکر بیٹھ گئیں اور خدا سے مخاطب ہوکر فرمایا: خدایا یہ تو اب ہمیں چھوڑ رہے ہیں۔مگر تو ہمیں کبھی نہیں چھوڑیے گا۔اللہ اللہ ! خاوند کی وفات پر اور خاوند بھی ایسا جو گویا ظاہر لحاظ سے ان کی ساری قسمت کا بانی اور ان کی تمام راحت کا مرکز تھا تو کل اور ایمان اور صبر کا یہ مقام دنیا کی بے مثال چیزوں میں سے ایک نہایت درخشاں نمونہ ہے۔یہ اسی قسم کے تو کل اور اسی قسم کے ایمان کا نمونہ ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت ﷺ ( فداہ نفسی ) کی وفات پر فرمایا: أَلَا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللهَ حَلٌّ لَّا يَمُوت۔یعنی اے مسلمانو! سنو کہ جو شخص اللہ کی پرستش کرتا تھاوہ جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں مگر جو شخص خدا کا پرستار ہے وہ یقین رکھے کہ خدا زندہ ہے اور اس پر کبھی موت نہیں آئے گی۔بس اس سے زیادہ میں اس وقت کچھ نہیں کہتا بلکہ کچھ نہیں کہہ سکتا۔وَاخِرُدَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - وَاللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَعَلَى عَبْدِكَ الْمَسِيحَ الْمَوْعُوْدِ وَبَارِك وَسَلِّمُ خاکسار مرزا بشیر احمد۔ربوہ ۲۰ اپریل ۱۹۵۹ء ۳