سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 73 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 73

73 مسیح موعود سے محبت کرنے والا بہترین ساتھی بلند اخلاق، بلند اقبال اور بلند توکل حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔فرماتے ہیں: (نوٹ: یہ مضمون اس جلسہ میں سنایا گیا جو مجلس خدام الاحمدیہ گول بازارر بوہ کے زیر اہتمام مورخہ ۲۰ را پریل ۱۹۵۹ء کو حضرت سیدہ اُم المومنین نور اللہ مرقدہا کی سیرت واخلاق کے موضوع پر منعقد ہوا۔) حضرت اماں جان اُم المومنین رضی اللہ عنہا کی وفات کو آج پورے سات سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔اس عرصہ میں خاکسار نے کئی دفعہ ان کی سیرت کے متعلق کچھ لکھنے کی کوشش کی مگر ہر دفعہ جذبات سے مغلوب ہو کر اس ارادہ کو ترک کرنا پڑا۔لیکن آج خدام الاحمدیہ گول بازار ربوہ کے احباب کی تحریک پر ذیل کی چند مختصر سطور لکھنے کا ارادہ کر رہا ہوں۔والــــــــه الــمــوفــق وهوا المستعان - حضرت اماں جان نور اللہ مرقدہا کی بلند سیرت اور بلند ا قبال کے متعلق غالبا سب سے زیادہ جامع اور سب سے زیادہ مختصر کلام وہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان پر خدا تعالیٰ کی طرف سے جاری ہوا یعنی : اذْكُرْ نِعْمَتِي رَاثَيْتُ خَدِيجَتِي یعنی اے خدا کے برگزیدہ میسیج تو میری اس نعمت کو یاد کر کہ تو نے میری خدیجہ کو پالیا ہے۔ان مختصر الفاظ میں حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بلند اخلاقی اور بلند اقبالی کے کئی زبر دست پہلو بیان کئے گئے ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ اس الہام میں آپ کے وجود کو اللہ تعالیٰ نے ” میری نعمت کے شاندار الفاظ سے یاد کیا ہے۔جس سے مراد یہ ہے کہ آپ کا وجود ایک عام نعمت ہی نہیں۔بلکہ خدا تعالیٰ کی خاص نعمت ہے جیسا کہ ”میری“ کے لفظ میں اشارہ ہے۔پھر اس کے ساتھ اُڈ گر کا لفظ بڑھا کر یہ بتایا گیا ہے۔کہ یہ ایک ایسی نعمت ہے۔جو یا د ر کھنے کے قابل ہے