سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 62 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 62

62 سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الثانی کے بعض رؤیا وکشوف حضرت خلیفہ مسیح الثانی نوراللہ مرقدہ نے سفر سندھ سے قبل حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے بارہ میں بعض رؤیا و کشوف دیکھے تھے۔جو آپ نے ۱۹ار جون ۱۹۵۲ء کو حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے وصال کے موقع پر ایک مجلس میں ارشاد فرمائے۔حضور نے فرمایا: (1) فرمایا: سندھ جانے سے پہلے میں نے رویا میں دیکھا کہ: ” میری ایک داڑھ گر گئی ہے مگر وہ میرے ہاتھ میں ہے اور میں اسے دیکھ کر تعجب کرتا ہوں کہ وہ اتنی بڑی جسامت کی ہے کہ دو بڑی داڑھوں کے برابر معلوم ہوتی ہے۔میں خواب میں بہت حیران ہوتا ہوں کہ اتنی بڑی داڑھ ہے اسے دیکھتے دیکھتے میری آنکھ کھل گئی۔“ چونکہ داڑھ کے گرنے کی تعبیر کسی بزرگ کی وفات ہوتی ہے اور چونکہ منذ رخوابوں کا بیان کرنا منع 66 ہے میں نے یہ رویا بیان نہیں کی لیکن جب سندھ کے سفر میں حضرت اُم المومنین کی بیماری کی خبریں آنی شروع ہوئیں تو اس رویاء کی وجہ سے مجھے زیادہ تشویش ہوئی اور گوا ابتداء ان کی بیماری کی خبریں ایسی تشویش ناک نہیں تھیں لیکن اس رویا کی وجہ سے چونکہ مجھے تشویش تھی میں نے انتظام کیا کہ روزانہ ان کی بیماری کے متعلق نظارت علیا کی طرف سے بھی اور میرے گھر کی طرف سے بھی الگ الگ تاریں پہنچ جایا کریں۔چنانچہ آخر میں وہی بات ثابت ہوئی کہ وہ مرض جسے پہلے معمولی ملیر یا سمجھا گیا تھا آخر ان کے لئے مہلک ثابت ہوا۔خواب میں جو داڑھ کو دو داڑھوں کے برابر دکھایا گیا ہے اس سے اس طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ام المومنین ہمارے اندر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بھی قائم مقام تھیں اور اپنی بھی قائم مقام تھیں اور گو بظاہر وہ ایک نظر آتی تھیں لیکن درحقیقت ان کا وجود دو کا قائمقام تھا۔اللہ تعالیٰ اس خلا کو جو پیدا ہو گیا ہے اسے اپنی رحمت اور فضل سے پُر کرے۔