سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 34 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 34

34 جب ہیں تاریخ کی رات کو اماں جان کی حالت یکدم خراب ہوگئی تو حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالی بھی تشریف لے آئے۔اور اماں جان کے سرہانے بیٹھے دعا ئیں فرماتے رہے۔اسی دوران میں حضرت اماں جان نے آنکھیں کھول کر حضرت صاحب کو دیکھا اور دونوں ہاتھ اُٹھا کر اشارے سے دعا کرنے کے لئے کہا۔حضرت صاحب دعا ئیں بڑے سوز اور رقت سے کرتے جاتے تھے اور کبھی آپ کی آواز بلند بھی ہو جاتی تھی۔اس وقت جو دعا آپ نے بلند آواز سے بار بار دہرائی اور جسے میں سن سکا تھی۔رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِياً يُنَادِي لِلْإِيْمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فامنا۔۔۔۔۔الآية - ( آل عمران : ۱۹۴) اماں جان کے آخری ڈھائی گھنٹے حضرت صاحب آپ کے پاس ہی رہے سوائے اس کے کہ چند منٹ کے لئے باہر برآمدے میں تشریف لے جاتے پھر کمرہ میں آجاتے۔حضور کے علاوہ حضرت اماں جان کے کمرے میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے، صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب، سیدہ نواب مبار که بیگم صاحبہ ، سیده امتہ الحفیظ بیگم صاحبه، سیدہ ام متین صاحبہ، سیدہ ام ناصر صاحبہ، صاحبزادی منصورہ بیگم صاحبہ، ہماری تینوں ممانی جان، خاکسار، عزیز میرمحمود احمد صاحب اور کچھ اور افراد خاندان موجود تھے۔باقی تمام افراد خاندان برآمدے میں تھے اور تمام ہی اپنے رب کے حضور دعاؤں میں نہایت کرب کے ساتھ مشغول تھے۔حضرت اماں جان کو آخری سانس سے قبل ایک لمبا سانس کھینچ کر آیا اس وقت حضرت صاحب چند منٹ قبل برآمدے میں تشریف لے گئے تھے۔چنانچہ بڑی پھوپھی جان نے زور سے کہا کہ بڑے بھائی کو بُلا ؤ حضور فوراً اندر تشریف لائے اور عین اُسی وقت حضرت اماں جان نے آخری چھوٹا سا سانس لیا اور آپ کی پاک رُوح ہمیشہ کے لئے جسدِ عصری کو چھوڑ کر اپنے مولا کے حضور حاضر ہوگئی۔بلانے والا ہے سب سے پیارا اُسی پر اے دل تو جاں فدا کر حضرت اماں جان کی بیماری کا آخری مہینہ سارے کا سارا تقریباً نہایت ہی تشویش میں گزرا۔چنانچہ اس وجہ سے خاندان کے اکثر افراد آپ کے پاس رہے اور اپنے اپنے رنگ میں آپ کی خدمت میں مصروف رہتے۔