سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 256 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 256

256 پکارا کرتے تھے ) سے رخصت طلب کی۔میاں صاحب نے فرمایا۔امتحان بہت قریب ہے چھٹی نہیں مل سکتی۔پھر عرض کی۔میاں صاحب نے پھر انکار کر دیا۔گھر آکر حضرت اماں جان سے شکوہ کیا۔اماں جان! میرا جی اداس ہو گیا ہے۔اور میاں چھٹی نہیں دیتے آپ میری بات سن کر خاموش ہور ہیں۔حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کا ان دنوں یہ معمول تھا کہ شام کا کھانا اپنے دالان میں تینوں بیٹوں سمیت اکٹھے ہی کھایا کرتیں۔ایک چھوٹا سا تختہ زمین پر بچھ جاتا۔اور اردگرد حضرت اماں جان اور سب صاحبزادے بیٹھ کر کھانا کھاتے کھانا بھی کھاتے جاتے اور مختلف قسم کا سلسلہ کلام بھی جاری رہتا۔معلوم ہوتا ہے ایسے موقع پر حضرت اماں جان نے میری سفارش بھی کر دی تھی۔صبح سکول گیا تو حضرت میاں صاحب (امیر المومنین ) نے دفتر میں مجھے بلا کر فرمایا۔رخصت تو دے دیتا ہوں مگر رخصت کے دن یعنی جمعہ کے روز ہی واپس آجانا اگر نہ آئے تو سزا ملے گی۔میں نے شرط منظور کر لی اور گھر یعنی موضع بہادر حسین چلا گیا۔خدا کا کرنا یہ ہوا کہ گاؤں پہنچ کر ایک شادی کی تقریب میں شامل ہونا پڑا اور جمعہ کے روز ہی واپسی کے ہفتہ اور اتوار کو بھی واپس نہ آسکا اور سوموار کی صبح کو سکول میں حاضر ہوا۔میاں صاحب نے دفتر میں مجھے طلب کیا اور دودن کی غیر حاضری پر سخت ناراض ہوئے اور کہا کہ سکول سے نکل جاؤ اور کل تب آنا کہ ایک روپیہ جرمانہ بھی ساتھ لاؤ۔میں سکول سے تو نہ گیا مگر گھر جا کر اماں جان کو سارا واقعہ کہہ سنایا: اماں جان! میاں سخت ناراض ہو گئے ہیں اور کہتے ہیں ایک روپیہ جرمانہ لاؤ تو سکول آؤ ورنہ نہ آؤ۔اماں جان نے جھڑک کر کہا ! تو جب میاں نے تمہیں ایک ہی دن کی رخصت دی تھی تو تم نے دو دن کیوں لگا دیئے میں ٹھٹھک کر رہ گیا۔اور سوچنے لگا۔اٹھی ! اب کیا کروں۔پھر عرض کی اماں جان! جنہیں ملنے کے لئے گیا ہوا تھا۔وہ تو بٹالہ میں ایک شادی پر گئے ہوئے تھے مجھے ان کے پیچھے جانا پڑا۔اس لئے دو دن لگ گئے اور آج اسی ڈر کے مارے راتوں رات سفر کر کے واپس پہنچا ہوں۔اس پر آپ خاموش ہو گئیں۔مغرب کے بعد وہی نورانی اور بابرکت محفل گرم ہوئی۔یعنی شمع کے گرد تینوں پروانے جمع ہوئے۔باتوں باتوں میں حضرت اماں جان نے عبداللہ کا ذکر بھی چھیڑ دیا۔اور میں ایک طرف کھڑے ہو کر یہ گفتگو سننے لگا۔اماں جان ہیں کہ عبداللہ کی معذوریاں بیان کرتی ہوئی تھکتی نہیں۔اور میاں ہیں کہ وہ اپنا حکم منوانے پر بضد ہیں۔