سیرت حضرت اماں جان — Page 255
255 اگر میرا ناصر بھی چوری کرے تو میں تو اُس کی بھی سفارش نہیں کروں گی تاثرات حضرت زینب بی بی صاحبہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں شہر فیروز پور سے قادیان دار الاماں آئی۔تو حضرت اماں جان اپنے ہال کمرے میں لیٹے ہوئے تھے۔پر جب انہوں نے اس عاجزہ کو دیکھا۔تو حضور نے اپنے پاس بلا کر اپنی چارپائی پر مجھے اپنے برابر بٹھا لیا۔اور دریافت فرمایا کہ زینب تو کب آئی ہے۔اور تمہارے بال بچوں کا کیا حال ہے۔اور تمہارے بابومحمد فاضل کی آنکھوں کا کیا حال ہے۔میں نے حضور کو سب حال سنایا۔تو میری اس گفتگو کے دوران میں ایک خاکرو به حضرت اُم المومنین کے پاس باہر سے آئی۔اور بڑے درد ناک لہجے میں اس خاکروبہ نے عرض کیا کہ میں حضور کی خدمت میں ایک زبر دست سفارش کرانے آئی ہوں اور وہ سفارش یہ ہے کہ میرے لڑکے نے کسی کے گھر کا قفل تو ڑا ہے۔اور اس گھر والے میرے لڑکے کو پکڑ کر لے گئے ہیں۔برائے مہربانی آپ میرے لڑکے کے لئے سفارش فرمائیں۔کہ میں غریب عورت ہوں میرے لڑکے چھوڑ دیا جائے۔حضرت اماں جان نے اس خا کرو بہ کو خوب گرج کر جواب دیا۔کہ میں تو ایسے لڑکے کی کبھی سفارش نہیں کروں گی۔کہ اُس چورلڑکے کو چھوڑ دیا جائے۔ہرگز ہرگز میں ایسی سفارش نہیں کرسکتی۔کیونکہ یہ شریعت کے بالکل خلاف ہے۔تم میری بات کان کھول کر سن لو۔اگر میرا ناصر بھی چوری کرے تو میں تو اُس کی بھی سفارش نہیں کروں گی۔۱۳۰ سفارش بھی کر دی اور جرمانہ بھی ادا کر دیا از مکرم ابوالمبارک محمد عبد اللہ صاحب میں مدرسہ احمدیہ میں پڑھتا تھا۔اور حضر خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بصرہ العزیز اللہ ن کی عمر کو بہت لمبا کرے آرزؤں کو برلائے ) اس کے ہیڈ ماسٹر تھے۔امتحان کے دن نزدیک تھے۔اور میں نے گاؤں جانے کے لئے میاں صاحب ان دنوں سب لوگ حضور کو اسی نام سے