سیرت حضرت اماں جان — Page 165
165 عورتیں آپ کے پاس دور دراز جگہوں سے آتی تھیں۔اور کہاں آپ کی عمر کا آخری زمانہ ؟ جب کہ آپ کے پاس بغرض زیارت آنے والی احمدی مستورات کی تعداد سینکڑوں یا ہزاروں تک پہنچ جاتی تھی۔اور آپ کے پاس اسی طرح ہدایا اور تحائف آتے تھے۔جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں خدائی وعده يأتون من كل فج عميق ويأتيك مـن كـل فـج عمیق کے مطابق آیا کرتے تھے۔اور یہ سب عزت اور نصرت اور سب مال اور سب عقیدت اور آپ کی ساری اولاد کی آپ کی زندگی میں ہی برومندی اور کثرت اور عزت اور آپ کی اس دعا کی ” خدایا اب یہ تو ہمیں چھوڑ رہے ہیں۔لیکن تو ہمیں نہ چھوڑیو“ کی قبولیت کا زندہ ثبوت ہے۔اور آپ کی یہ دعا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی قبولیت اس الہی وعدہ کی عملی تصدیق تھی۔کہ إِني مَعَكَ ومَعَ اَهْلكَ هذه“ میں تیرے ساتھ اور تیری اس بیوی کے ساتھ ہوں ولنعم ما قال احمد عليه السلام اے کہ گوئی گر دعا ہارا اثر بودے کجا است؟ سوئے من بشتاب بنائم تر چوں آفتاب؟ بے شک حضرت اُم المومنین علیہا السلام کی وفات قادیان سے ربوہ میں ہوئی۔مگر مشیت الہی میں یہی مقدر تھا۔کہ آپ کی اپنے زوج حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اس رنگ میں بھی مشابہت ہو۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی غریب الوطن ہونے کی حالت میں ہی اپنے تمام عزیزوں کی موجودگی میں رحلت فرمائی اور شہادت فی سبیل اللہ کا درجہ پایا۔اور حضرت اقدس علیہ السلام کی زوجہ مطہرہ علیہا السلام نے بھی غریب الوطن ہونے کی حالت میں ہی اپنے تمام اعزہ کی موجودگی میں رحلت فرمائی۔اور اپنی جان اپنے جان آفرین کی خدمت میں پیش کی۔اور ماہ شہادت ۱۳۳۱ ہش میں شہادت فی سبیل اللہ کا درجہ پایا۔اور يَا أَحَمدُ اسْكُنُ انت وَزَوْجُكَ الجنَّة کی مصداق ہوئیں ہرگز نمیرد آنکه دلش زنده مثبت شد بعشق بر جریده عالم دام شان اللهمَّ صل على محمد وعلى آل محمد وبارك وسلم انك حميد مجيد ٣٦