سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 11 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 11

۶ ستمبر ۱۹۳۴ء 11 حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا سعید احمد صاحب قادیان سے ولایت کے لئے روانہ ہوئے۔آپ کو الوداع کرنے کے لئے ایک بہت بڑا اجتماع تھا۔اس الوداعی تقریب میں افراد خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کئی احباب شامل تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ، حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب، مرزا گل محمد نیز حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ اور حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا بھی الوداع کرنے کے لئے بنفس نفیس شامل ہوئیں۔۳۸ مئی ۱۹۳۵ء۔زلزلہ کوئٹہ : ۳۱ رمئی ۱۹۳۵ ء کو کوئٹر میں ایک لرزہ خیز زلزلہ آیا جس سے بے حد جانی اور مالی نقصان ہوا۔سیدنا حضرت خلیفہ اسی الثانی نے جماعت احمدیہ کو توجہ دلائی کہ وہ ہر رنگ میں مصیبت زدگان کی مدد کریں۔لجنہ اماء اللہ کے ذریعہ چندہ جمع کرنے کا انتظام کیا گیا۔حضرت اُم المومنین نے اس مد میں دو سو روپے چندہ دیا۔۳۹ ۱۹۳۶ء تعمیر مہمان خانہ و توسیع بيوت الذكر : ناظر صاحب بیت المال قادیان نے ایک اپیل شائع کی کہ توسیع مہمان خانہ مسجد مبارک ،مسجد اقصیٰ اور جلسہ سالانہ کے لئے جماعت کے افراد اپنی اپنی ماہوار آمد کا تہائی حصہ دیں۔یہ مبارک کام جو در پیش ہیں ان کا بیشتر فائدہ مستورات کو پہنچے گا اس لئے خواتین جماعت کو اس چندہ میں خصوصیت سے حصہ لینا چاہیے۔حضرت اُم المومنین نے تعمیر مہمان خانہ اور توسیع مسجد کے لئے دو سوروپے عطا فرمائے۔۴۰ ۱۹۳۶ء میں حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ علیل رہیں۔جلسہ سالانہ ۱۹۳۶ء سے قبل آپ بفضلہ تعالیٰ صحت یاب ہو گئیں۔اس توقع سے لجنہ اماءاللہ قادیان نے آپ کی ملاقات کا خاص اہتمام کیا تا کہ خواتین آپ سے شرف ملاقات حاصل کر سکیں۔اے ۱۹۳۸ء۔خلافت جو بلی فنڈ : حضرت اماں جان نے خلافت جو بلی فنڈ کی مد میں پانچ صد روپے چندہ عطا فرمایا۔۴۲