سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 103 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 103

103 تاثرات محترمہ صاحبزادی امته الرشید بیگم صاحبه ہماری پیاری اماں جان ہم سے جدا ہو کر اللہ میاں کو پیاری ہوئیں اور گویا ہم سب کی کمریں توڑ گئیں۔ٹوٹی ہوئی کمروں کا اللہ ہی سہارا ہے۔الْعَيْنُ تَدْ مَعُ وَالْقَلْبُ يَحْزَنُ وَمَاتَقُولُ إِلَّا مَا يَرُضَىٰ بِهِ رَبُّنَا۔آنکھیں اشکبار ہیں اور دل غم سے نڈھال لیکن ہم اپنے رب کی رضا پر راضی ہیں اور اس کی رضا کے خلاف کوئی کلمہ زبان پر نہیں لاتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے کہ: بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر حضرت اماں جان کے دم سے خدا کے پاک مسیح علیہ السلام کا ذاتی گھر آباد تھا۔آج دار المسیح ہونا ہے۔آہ۔اُن کے جاتے ہی یہ کیا ہوگئی گھر کی صورت نہ وہ دیوار کی صورت ہے نہ در کی صورت حضرت اماں جان کے مقدس وجود کے ساتھ ہزاروں ہزار برکات و فیوض وابستہ تھے جن سے آج ہم محروم ہیں۔قریباً چوبیس سال کا عرصہ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زوجیت میں گزارا اور آپ کی پاک زندگی کا ہر پہلو اپنے اندر نور نبوت کا پر تو لئے ہوئے تھا جو آپ کو قریب سے دیکھنے والے ہر خاص و عام کو اپنا گرویدہ بنالیتا تھا۔آپ کی سیرت طیبہ کا ورق آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔میں اپنے اس مختصر نوٹ میں صرف چندایسی باتیں بیان کروں گی جن کا تعلق میرے ذاتی مشاہدہ سے ہے۔باتیں بظاہر معمولی اور روزمرہ کی زندگی سے تعلق رکھنے والی ہیں لیکن ان میں ایک مقدس آسمانی روح کی بلند سیرت کی جھلک نظر آتی ہے۔میری عمر کوئی نو دس برس کی ہوگی۔ایک دفعہ میں حضرت اماں جان کے صحن میں کھڑی تھی کہ وہاں سے ایک بچہ گزرا جس کے نام کے ساتھ سب بچے ”موٹے“ کا لفظ استعمال کرتے تھے۔میں