سیرت حضرت اماں جان — Page 102
102 ہوں۔جب میری آنکھ کھلی تو میں حضرت اماں جان کے ساتھ چھٹی ہوئی تھی۔اور آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے۔حضرت اماں جان نے بہت پیار کیا تو میں ضبط نہ کرسکی۔رفتہ رفتہ آپ کی محبت والفت کی چادر مجھ پر کشادہ ہوتی گئی یہاں تک کہ میں اپنامیکہ بھول گئی۔گویا ایک ماں کی گود سے نکل کر دوسری آغوش مادر میں خدا تعالیٰ نے بھیج دیا۔( جب میرا بیٹا پیدا ہوا تو وہ جنوری کا مہینہ تھا ، جمعہ کا دن تھا۔میں نے حضرت اماں جان کی خدمت میں کہلا بھیجا کہ مجھے تکلیف ہے۔آپ نماز پڑھ کر تشریف لے آئیں۔اور آپ کے آنے کے بعد بچہ پیدا ہوا۔بچہ کونسل وغیرہ دے کر حضرت اماں جان کی گود میں دیا۔آپ نے فرمایا کہ محمودہ! اس بچے کے لئے کوئی گرم شال نہیں ہے؟ اس پر میں نے کہا۔نہیں اماں جان ( منگوائی نہیں ) آپ نے جو گرم چادر اوڑھی ہوئی تھی اور جس کا رنگ نسواری تھا اس میں بچے کو لپیٹ دیا۔ان کا غریبوں کے ساتھ شفقت سے پیش آنا اور امیروں کے ساتھ ان کی ہمدردی جو تھی وہ بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔عبادت اور دعائیں میں نے انہیں کبھی خالی وقت میں خاموش نہیں دیکھا۔وہ دعا جو اکثر گھبراہٹ کے وقت پڑھا کرتی تھیں وہ يا حي يا قيوم برحمتك نستغيث ہے۔اور حقیقت ہے کہ میں نے دعا ئیں سیکھی ہی حضرت اماں جان سے ہیں۔دوسری دعا جو وہ کرتی تھیں وہ یتھی۔سبحان الله وبحمده سبحان الله العظیم۔اللہ تعالیٰ آپ کے درجات کو بلند فرمائے۔اس بات کا بے حد صدمہ ہے کہ جو دعاؤں کا دروازہ ہمارے لئے کھلا تھا وہ اماں جان کی وفات سے بند ہو گیا۔اللہ تعالیٰ محبوب مادر مہربان پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرما اور اپنے فضلوں اور رحمتوں کی چادر سے ڈھانپ لے۔آمین یا رب العالمین۔۱۰