سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 97 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 97

97 غرض یہ وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے خاموش خدمتیں کیں۔اور بہت کیں۔بے حد اخلاص سے کیں۔حضرت اماں جان کو خانہ داری کے بوجھ سے بڑی حد تک آزاد رکھا۔اللہ تعالیٰ کی رحمت ان پر اور ان کی اولاد پر ہمیشہ رہے۔(۳) صرف اس لئے نہیں کہ اماں جان غیر معمولی محبت کرنے والی ماں تھیں۔اور اس لئے نہیں کہ آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں تو محض ذکر خیر کے طور پر آپ کا تعریفی پہلولکھا جائے۔اور اس لئے بھی نہیں کہ مجھے ان سے بے حد محبت تھی ( اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کس طرح میں ان کی جدائی کو برداشت کر رہی ہوں ) بلکہ حق اور محض حق ہے۔کہ حضرت اماں جان کو خدا تعالیٰ نے سچ مچ اس قابل بنایا تھا۔کہ وہ ان کو اپنے مامور کے لئے چن لے۔اور اس وجود کو اپنی خاص نعمت قرار دے کر اپنے مرسل کو عطا فرمائے۔آپ نہایت درجہ صابرہ اور شاکرہ تھیں۔آپ کا قلب غیر معمولی طور پر صاف اور وسیع تھا کسی کے لئے خواہ اس سے کتنی تکلیف پہنچی ہو۔آپ کے دل پر میل نہ آتا تھا۔کان میں پڑی ہوئی رنجیدہ بات کو اس صبر سے پی جاتی تھیں کہ حیرت ہوتی تھی۔اور ایسا برتاؤ کرتی تھیں کہ کسی دوسرے کو کبھی کسی بات کے دہرانے کی جرات نہ ہوتی تھی شکوہ، چغلی، غیبت کسی بھی رنگ میں نہ کبھی آپ نے کیا نہ اس کو پسند کیا۔اس صفت کو اس اعلیٰ اور کامل رنگ میں کبھی کسی میں میں نے نہیں دیکھا۔آخر دنیا میں کبھی کوئی بات کوئی کسی کی کر ہی لیتا ہے۔مگر زبان پر کسی کے لئے کوئی لفظ نہیں آتے سنا تو حضرت اماں جان کے۔جہاں کسی نے مجلس میں کسی کی بطور شکایت بات شروع کی اور آپ نے فوراٹو کا حتی کہ اپنے ملازموں کی شکایت جو خود آپ کے وجود کے ہی آرام کے سلسلہ میں تنگ آکر کبھی کی جاتی پیچھے سے سننا پسند نہ کرتی تھیں۔اپنے ملازموں پر انتہائی شفقت فرماتی تھیں۔آخری ایام میں جب آواز نکلنا محال تھا مائی عائشہ ( والدہ مجید احمد مرحوم درویش قادیان) کی آواز کسی سے جھگڑنے کی کان میں آئی بڑی مشکل سے آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا اور بدقت فرمایا ” مائی کیوں روئی ؟“ میں نے کہا نہیں اماں جان روئی تو نہیں یو نہی کسی سے بات کر رہی تھیں۔مگر جو درد حضرت اماں جان کی آواز میں اس وقت مائی کے لئے تھا۔آپ نے کئی لڑکیوں اور لڑکوں کو پرورش کیا۔اور سب سے بہت ہی شفقت و محبت کا برتاؤ تھا۔خود اپنے ہاتھ سے ان کا کام کیا کرتی تھیں۔اور کھلانے پلانے ، آرام کا خیال رکھنے کا تو کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔مگر تربیت کا بھی بہت خیال رکھتیں۔اور زبانی نصیحت اکثر فرماتیں۔