سیرت حضرت اماں جان — Page 96
96 ہماری اماں جان نورالله مرقدها ر قم فرموده حضرت سیدہ نواب مبار که بیگم صاحبه ) ابھی نہ میرے دل و دماغ میں طاقت تھی نہ ہاتھوں میں سکت کہ میں کچھ لکھ سکوں۔مگر آج کے رمئی کے الفضل میں ایک روایت کی تصحیح کے لئے ضروری معلوم ہوا کہ میں یہ چند سطور لکھ دوں۔(1) برادرم خان عبدالمجید خان کی جو تحریر شائع ہوئی ہے۔اس میں ۱۹۰۵ ء یا ۱۹۰۶ء میں حضرت اماں جان کا کپورتھلہ جانا غالبا کا تب کی غلطی سے لکھا گیا ہے۔۱۹۱۵ء یا ۱۹۱۶ء ہوگا کیونکہ حضرت اُم المومنین علیہا السلام ۱۹۰۵ ء یا ۱۹۰۶ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ کے علاوہ کہیں تشریف نہیں لے گئیں۔کپور تھلہ ضرور آپ گئی ہیں۔مگر جب میری شادی ہو چکی تھی سن ٹھیک مجھے یاد نہیں۔وہاں سے واپسی پر آپ وہاں کا ذکر فرماتی رہی ہیں۔کپورتھلہ کی جماعت کے لوگ بھی ان لوگوں میں سے تھے جن سے آپ خاص محبت فرماتی تھیں۔(۲) برادرم احمد اللہ خان کی والدہ صاحبہ نے جن کو اس زمانہ میں صفیہ کی ماں کہہ کر مخاطب کیا جا تا تھا۔حضرت اماں جان کی بہت مدد اور خدمت کی ہے۔کھانا شاید کسی وقت حسب ضرورت پکایا ہو۔مگر وہ عام طور پر مہمان نوازی کا سامان بستر چار پائیاں برتن سنبھالنے رکھنے نکالنے دینے لینے کا کام کیا کرتی تھیں۔دودھ بھی جو گھر میں آتا اس کو رکھنا اور تقسیم کرنا وہی کرتی تھیں۔حضرت اماں جان ان پر بہت شفقت فرماتی تھیں۔ان کے علاوہ اصغری کی اماں تھیں اہلیہ اکبر خان صاحب مرحوم انہوں نے سالہا سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اور سب گھر کا کھانا پکایا اور بہت ہی محبت سے جان دے کر خدمت کی۔ہنڈیا میں چمچہ پھیرتی جاتیں۔دعائیں کیا کرتی تھیں۔ان کی سادہ دعا یہی ہوا کرتی تھی کہ یا اللہ ساری دنیا کے مزے میرے حضرت صاحب کے کھانے میں آجائیں، کبھی حضرت اماں جان ہنس کر فرما تیں کہ اصغری کی اماں میرے بھائی (حضرت میر محمد اسمعیل صاحب) کے کھانے کا مزا بھی ؟ تو فوراً کہتیں (ماموں جان لاہور میں پڑھتے تھے ) ہاں۔یا اللہ میاں اسمعیل لکھے کھانے کا مزانہ آئے۔