سیرت طیبہ — Page 94
۹۴ چونکہ حضرت مسیح موعود اپنے بچوں کے دل میں غیر معمولی اسلامی غیرت اور صلحاء امت کا غیر معمولی ادب پیدا کرنا چاہتے تھے اس لئے آپ نے اس موقعہ پر اپنی اولا د کو ایک خاص نوعیت کی نصیحت کرنی مناسب خیال فرمائی۔اس تعلق میں ایک اور دلچسپ روایت بیان کرنا بھی ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ عقیدہ تھا کہ مقتدی کے لئے نماز میں امام کے پیچھے بھی سورہ فاتحہ پڑھنی ضروری ہے اور آپ اس کی بہت تاکید فرمایا کرتے تھے کیونکہ سورۃ فاتحہ قرآن عظیم کا خلاصہ ہے اور قرآن سے آپ کو عشق تھا۔ایک دفعہ آپ اپنی مجلس میں بڑے زور کے ساتھ اپنے اس عقیدے کا اظہار فرمارہے تھے کہ حاضرین مجلس میں سے کسی نے عرض کیا کہ حضور ! کیا سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی ؟ اس پر حضرت مسیح موعود نے اس طرح رک کر کہ جیسے ایک چلتی ہوئی گاڑی کو بریک لگ جاتی ہے جلدی سے فرمایا:۔دو نہیں نہیں ! ہم ایسا نہیں کہتے کیونکہ حنفی فرقہ کے کثیر التعداد بزرگ یہ عقیدہ رکھتے رہے ہیں کہ نماز میں امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی ضرورت نہیں۔اور ہم ہر گز یہ خیال نہیں کرتے کہ ان بزرگوں کی نماز نہیں ہوئی۔“ (سلسلہ احمدیہ وسیرۃ المہدی حصہ دوم ) اس دلچسپ روایت سے جماعت احمدیہ کے نوجوانوں کو بلکہ غیر از جماعت لوگوں کو بھی یہ لطیف سبق حاصل ہوتا ہے کہ اپنے عقیدہ پر قائم رہتے ہوئے بھی مختلف الخیال نیک لوگوں کا ادب ملحوظ رکھنا نہایت ضروری ہے۔برزگوں کا قول ہے اور یہ فقرہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان مبارک پر بھی کثرت کے ساتھ آتا تھا کہ:۔