سیرت طیبہ — Page 93
۹۳ (۵) اسلام کے گذشتہ مجددین کے متعلق بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑی غیرت رکھتے تھے۔ایک دفعہ ہمارے بڑے بھائی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ المسیح الثانی نے اپنے بچپن کے زمانہ میں جہانگیر کا شاندار مقبرہ دیکھنے کا شوق ہتک کی تھی۔“ ظاہر کیا اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نصیحت کے رنگ میں فرمایا :۔”میاں تم جہانگیر کا مقبرہ دیکھنے کے لئے بے شک جاؤ لیکن اس کی قبر پر نہ کھڑے ہونا کیونکہ اس نے ہمارے ایک بھائی حضرت مجددالف ثانی کی روایات میاں عبد العزیز صاحب مغل مرحوم) تین سوسال سے زائد زمانہ گذرنے پر بھی ایک مسلمان بادشاہ کے ایسے فعل پر جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے اسلامی تاریخ میں گویا ایک عام واقعہ ہے کیونکہ مسلمان بادشاہوں کے زمانہ میں ایسے کئی واقعات گذر چکے ہیں۔حضرت اقدس علیہ السلام کا اس قدر غیرت ظاہر کرنا اور حضرت مجددالف ثانی کے لئے بھائی جیسا پیارا لفظ استعمال کرنا اس یگانگت اور محبت اور عقیدت کی ایک بہت روشن مثال ہے جو آپ کے دل میں امت محمدیہ کے صلحاء کے لئے موجزن تھی جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے اس ارشاد میں خود وضاحت فرما دی ہے حضور کی اس ہدایت کا یہ مطلب نہیں تھا کہ کسی مسلمان کو جہانگیر کا مقبرہ نہیں دیکھنا چاہیے وہ ایک جاہ وجلال والا مسلمان بادشاہ تھا اور ہمیں اپنے قومی اکابر اور بزرگوں بلکہ غیر قوموں کے بزرگوں کی بھی عزت کرنے کا حکم ہے مگر